Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وائٹ ہاؤس کے قریب مشتبہ مسلح شخص، اہلکاروں نے گولی مار دی

میتھیو کوئن کے مطابق کارروائی میں ایک کم عمر راہگیر بھی زخمی ہوا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے قریب سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے ایک مسلح شخص کو گولی مار دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پیر کو واقعہ پیش آنے کے بعد وائٹ ہاؤس کے قریب کچھ دیر کے لیے لاک ڈاؤن بھی لگایا گیا۔
امریکی سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نیشنل مال کے قریب نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ گزرنے کے فوراً بعد ہوئی۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا ان کا نہیں خیال کہ نائب صدر جے ڈی وینس ہی ممکنہ ٹارگٹ ہوں جبکہ انہیں یہ اندازہ بھی نہیں کہ اس واقعے کا کوئی تعلق چند روز پیشتر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جان لینے کی کوشش سے ہے یا نہیں۔
’میں اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا کہ اصل ہدف صدر ہی تھے یا نہیں، مجھے نہیں معلوم، مگر ہم جلد ہی کا پتہ لگا لیں گے۔‘
متیھو کوئن نے یہ بھی کہا کہ فائرنگ کی کارروائی اس وقت ہوئی جب سیکرٹ سروس کے ایجنٹس کی نظر میں ایک ’مشکوک شخص‘ نظر آیا جس کے پاس آتشیں اسلحہ تھا۔
’جب اہلکاروں نے اس شخص کے قریب جانے کی کوشش کی تو بھاگا اور ہتھیار نکال کر فائرنگ شروع کر دی جس پر سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس سے مشتبہ شخص زخمی ہوا۔‘
ان کے مطابق ’اس کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کی حالت میں فوری طور پر کچھ معلوم نہیں ہوا ہے۔‘
میتھیو کوئن نے یہ بھی بتایا تھا کہ کارروائی میں ایک کم عمر راہگیر بھی زخمی ہوا۔
خیال رہے یہ تازہ واقعہ وائٹ ہاؤس کی اس تقریب میں مسلح شخص کے گھسنے کے بعد چند روز بعد پیش آیا ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک تھے۔
اس شخص نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی تاہم اس کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس کی بعدازاں کول ایلن کے طور پر شناخت ہوئی تھی اور اس کا تعلق کیلیفورنیا سے تھا۔
اس کے بعد امریکہ کے اعلیٰ حکام کی سکیورٹی کے انتظامات کے حوالے سے سوالات کھڑے ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ ہوئی تھی جبکہ ایک مسلح شخص ان کی رہائش گاہ میں گھسنے کی کوشش میں مارا گیا تھا۔

شیئر: