Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عراق میں شیعہ پی ایم ایف کے ٹھکانے پر حملہ، کمانڈر سمیت 10 ہلاک

عراق کے سکیورٹی و صحت سے متعلق سورسز نے کہا ہے کہ منگل کی صبح مغربی صوبے انبار میں شیعہ پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ایک ٹھکانے پر فضائی حملے ہوئے جس میں پی ایم ایف کے کمانڈر سمیت کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پی ایم ایف نے ایک بیان میں اپنے انبار کمانڈر سعد البیحی اور دیگر ساتھیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
اس کی جانب سے حملے کا الزام امریکہ پر لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ہیڈکوارٹر پر اس وقت بمباری کی گئی جب وہاں سینیئر کمانڈرز کا اجلاس ہو رہا تھا۔
پی ایم ایف جسے عربی میں حشد الشعبی کہا جاتا ہے ایسا گروپ ہے جس میں زیادہ تر شیعہ نیم فوجی دھڑے شامل ہیں اور یہ باقاعدہ طور پر عراق کی سکیورٹی فورسز میں ضم ہوا تھا اور اس میں ایران سے منسلک دوسرے کئی گروپ بھی شامل ہیں۔
تہران کی حمایت رکھنے والے مسلح گروہوں نے فروری میں ایران پر حملے کے بعد عراق میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس سے خطے میں مزید جنگ پھیلنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کا دائرہ پہلے ہی کافی پھیل چکا ہے اور ایران کی جانب سے اسرائیل اور ان خیلجی ممالک پر حملے کیے جا رہے ہیں جہاں امریکہ کی تنصیبات موجود ہیں۔
اسی طرح ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار سے فائرنگ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بھی اس کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

شیئر: