Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شام میں قائم امریکہ کے اڈے پر عراق سے راکٹوں سے حملہ: ذرائع

شام میں موجود امریکی اڈے پر عراق سے کم از کم سات راکٹ فائر کیے گئے ہیں جو کہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اس نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں دو عراقی سکیورٹی سورسز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ راکٹ ربیعہ کے علاقے سے پیر کو داغے گئے جن کا نشانہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں قائم امریکہ کا فوجی اڈہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق راکٹ فائر کرنے کا پلیٹ فارم ایک جلے ہوئے ٹرک کے اوپر نصب تھا جس کو تحویل میں لیا گیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ شام میں رمیلان بیس کی طرف راکٹ اسی سے داغے گئے۔
یہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے شام میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار سے پہلا حملہ ہے۔
  شام کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حساکا کے علاقے میں ایک فوجی اڈہ حملے کی زد میں آیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ وہاں کتنے فوجی موجود تھے اور کیا کوئی نقصان بھی ہوا ہے۔
فوجی حکام کے بیان کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے عراق کے حکام کے ساتھ رابطہ کیا گیا اور انہوں نے حملہ کرنے والے افراد کو پکڑنے کے لیےسرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کا دائرہ پہلے ہی کافی پھیل چکا ہے کیونکہ تہران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکہ کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسی طرح اسرائیل نے لبنان پر بھی مزید حملے کیے ہیں جبکہ اس سے قبل ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار سے فائرنگ کی گئی تھی۔

شیئر: