فیصلہ کن مرحلے میں ایران میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے والے پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کون ہیں؟
باقر قالیباف نے 2013 اور 2024 میں بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لیا۔ (فوٹو: اے پی)
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اسرائیلی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ کی سیاسی قیادت کے کمزور ہونے کے بعد اب زیادہ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے وہ ایک فیصلہ کن مرحلے پر نہایت اہم شخصیت بن گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار اور معاملے سے واقف ایک ذریعے نے پیر کو بتایا کہ محمد باقر قالیباف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے، جو ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت ہے۔
ایران کی کئی نمایاں شخصیات کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد، سابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، تہران کے میئر، قومی پولیس کے سربراہ اور صدارتی امیدوار رہنے والے قالیباف اب سیاسی، سیکیورٹی اور مذہبی اشرافیہ کے درمیان ایک اہم رابطہ بن چکے ہیں۔
تقریباً تین ہفتے قبل ایران پر اچانک حملے کے بعد، جس میں اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیا گیا، تہران کی قیادت اب اپنے مخالفین کے مقابلے میں طویل مزاحمتی جدوجہد میں مصروف ہے۔
باقر قالیباف، جو طویل عرصے سے خامنہ ای کے قریبی ساتھی اور ان کے بیٹے مجتبیٰ کے معتمد سمجھے جاتے ہیں، جو اب سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہیں، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور حملوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔
خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم ایسے تباہ کن حملے کریں گے کہ تم خود رحم کی بھیک مانگو گے۔‘
انہوں نے ایک ٹی وی خطاب میں کہا کہ ’میں ان دو گندے مجرموں اور ان کے کارندوں سے کہتا ہوں: تم نے ہماری سرخ لکیر عبور کی ہے اور اس کی قیمت چکانی ہوگی۔‘
یہ جارحانہ بیانیہ ان کے دیرینہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جس میں وہ اسلامی جمہوریہ کے مذہبی نظامِ حکومت کے سخت حامی رہے ہیں، اور اندرونی اختلاف کو کچلنے میں بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
تاہم اس سخت گیر تشخص کے باوجود، قالیباف نے خود کو ایک جدیدیت پسند اور عملی سیاستدان کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ 2005 کے صدارتی انتخاب میں انہوں نے اپنے انتخابی اشتہارات میں ایک تربیت یافتہ پائلٹ کے طور پر وردی میں تصاویر بنوائیں تاکہ پیشہ ورانہ تاثر کو اجاگر کیا جا سکے۔
یہی پہلو شاید انہیں امریکہ کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کے لیے موزوں شخصیت بناتا ہے، اگرچہ ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق امریکہ کے ساتھ کسی رابطے کی تردید بھی کی گئی ہے۔
باقر قالیباف 1961 میں شمال مشرقی شہر طرقبہ میں پیدا ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ان کی ابتدائی زندگی پر مساجد میں ہونے والے خطبات کا اثر تھا، خاص طور پر اُس وقت جب 1979 کا اسلامی انقلاب زور پکڑ رہا تھا۔
جب انقلاب کے کچھ ہی ماہ بعد عراق نے ایران پر حملہ کیا تو وہ پاسدارانِ انقلاب میں شامل ہو گئے، جو ایک نئی فوجی تنظیم تھی جس کا مقصد اسلامی نظام کا تحفظ تھا۔ صرف تین سال میں وہ جنرل کے عہدے تک پہنچ گئے۔
جنگ کے بعد بھی انہوں نے پاسدارانِ انقلاب میں اپنا کیریئر جاری رکھا، فوجی پائلٹ کی تربیت حاصل کی اور بالآخر فضائیہ کے سربراہ بن گئے۔
پاسداران کے کمانڈر کی حیثیت سے انہوں نے 1999 میں یونیورسٹی طلبہ کے خلاف ایک خونریز کریک ڈاؤن میں حصہ لیا اور دیگر کمانڈروں کے ساتھ مل کر اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کو خط لکھا جس میں احتجاج نہ روکنے کی صورت میں انہیں ہٹانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
خامنہ ای، جو اندرونی بے چینی اور ایران کے جوہری پروگرام پر بیرونی دباؤ کے درمیان پھنسے ہوئے تھے، نے بتدریج قالیباف جیسے سخت گیر سکیورٹی رہنماؤں پر انحصار بڑھایا۔
بطور پولیس سربراہ، وہ سخت اقدامات کے لیے جانے جاتے تھے، 2002 میں انہوں نے مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دیا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے پولیس کو جدید بنانے کی کوشش بھی کی۔
2005 میں صدارتی انتخاب میں انہوں نے متوسط اور نچلے طبقے کے ووٹروں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی، مگر ان کا مقابلہ اُس وقت کے تہران کے میئر محمود احمدی نژاد سے تھا، جنہوں نے زیادہ مقبولیت حاصل کی، اور خامنہ ای نے بھی آخرکار اپنی حمایت ان کی طرف منتقل کر دی۔
قالیباف نے صدارتی خواہش ترک نہیں کی اور 2013 اور 2024 میں بھی انتخابات میں حصہ لیا، جبکہ 2017 میں سخت گیر ووٹ تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے دستبردار ہو گئے۔
بعد ازاں وہ احمدی نژاد کی جگہ تہران کے میئر بنے اور 12 سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے 2009 کے متنازعہ انتخابات کے بعد ہونے والے احتجاج کو دبانے میں بھی کردار ادا کیا۔
میئر کے طور پر 12 سالہ دور کے بعد وہ دوبارہ قومی سیاست میں آئے، 2020 میں پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور سپیکر بن گئے، یوں وہ ایران کی سیاست کے اعلیٰ ترین عہدوں میں شامل ہو گئے۔
