پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘
منگل کو ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے مفاد میں، اگر امریکہ اور ایران متفق ہوں تو پاکستان بامقصد اور حتمی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق اس سے قبل پاکستان نے منگل کو واضح کیا تھا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جبکہ عالمی میڈیا میں یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ امریکی وفد جلد اسلام آباد پہنچ کر ایرانی حکام سے بات چیت کر سکتا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت جاری ہے، جس کے باعث ایران کے بجلی گھروں پر مجوزہ بڑے حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایرانی حکام نے ایسی کسی بھی براہِ راست بات چیت کی تردید کر دی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ’اگر متعلقہ فریقین چاہیں تو اسلام آباد ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے۔‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ابھی تک ان ممکنہ مذاکرات کی تردید نہیں کی، جبکہ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے ایک غیر جانبدار مقام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کی۔
Pakistan welcomes and fully supports ongoing efforts to pursue dialogue to end the WAR in Middle East, in the interest of peace and stability in region and beyond. Subject to concurrence by the US and Iran, Pakistan stands ready and honoured to be the host to facilitate…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 24, 2026
اس دوران شہباز شریف نے سفارتی ذرائع سے اختلافات حل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر جب یہ تنازع خطے میں توانائی اور پانی کے تحفظ کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں جلد مذاکرات ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم ایران نے ان خبروں کو ’نفسیاتی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
یاد رہے کہ یہ جنگ ایران میں 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات اور قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے مشترکہ حملے کیے تھے۔ اس کے بعد ایران نے خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، کویت اور بحرین پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔












