Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کا ایران جنگ ختم کرنے کا 15 نکاتی منصوبے کیا ہے اور ہم اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

پاکستانی حکام کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے 15 نکات پر مشتمل دستاویز موصول ہو گئی ہے جسے ایران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ کو ختم کرنے کے 15 نکاتی منصوبے کے بارے میں سامنے معلومات سامنے آئی ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے منصوبے کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
متعدد خبر رساں اداروں کے مطابق حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے جنگ روکنے کا منصوبہ موصول ہوا ہے۔ تاہم تہران نے اس کی تصدیق نہیں کی اور بدھ کے روز اس سفارتی کوشش کو عوامی طور پر مسترد کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام میں کمی، میزائلوں پر پابندیاں، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی مسلح گروہوں کی حمایت محدود کرنے کی بات بھی شامل ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کا یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا۔
اگرچہ تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن اب تک جو معلومات دستیاب ہیں وہ یہ ہیں:
امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف نے ٹرمپ کو بتایا کہ ایرانیوں نے کئی اہم نکات پر اتفاق کیا ہے، جن میں زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونا بھی شامل ہے۔
نیوز ویب سائیٹ ایکزیوس کے مطابق، امریکہ نے یہ 15 نکاتی منصوبہ اسرائیل کے ساتھ بھی شیئر کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ ایران 60 فیصد افزودہ 450 کلوگرام یورینیم کے ذخیرے کو چھوڑنے پر آمادہ ہے۔
امریکی انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ ایران اقوام متحدہ کی سخت نگرانی قبول کرے گا، اپنے بیلسٹک میزائلوں کی حد کم کرے گا، اور اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت میں کمی کرے گا۔
ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق، اس دستاویز میں ایران کے لیے یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر صفر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایران افزودگی کو عارضی طور پر معطل کرنے پر آمادہ ہوا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مدت کتنی ہوگی۔ مزید یہ کہ اس دستاویز میں وہی مطالبات شامل ہیں جو جنیوا میں ہونے والے گزشتہ جوہری مذاکرات میں بھی کیے گئے تھے۔

ثالثی کی کوششیں

ایکزیوس کے مطابق، پاکستان مصر اور ترکی کے ساتھ مل کر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے۔
تاہم ثالث اب بھی ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ تہران مسلسل اس بات کی تردید کر رہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی بات چیت ہو رہی ہے، اور کہہ رہا ہے کہ وہ ’مکمل فتح تک‘ لڑتا رہے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مصری حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ کوششیں امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی پر مرکوز ہیں، تاکہ لڑائی میں وقفہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا طریقہ کار طے کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کو بحال کیا جائے، جو خلیج فارس کا ایک اہم راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے، جسے جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے تقریباً ناقابلِ عبور بنا دیا ہے۔ اسے دوبارہ کھولنا ٹرمپ اور عالمی معیشت دونوں کے لیے ترجیح ہے۔

اب کیوں؟

ٹرمپ کا یہ اچانک فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ان کی دھمکی کی مدت کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا تو اس کے پاور پلانٹس کو ’تباہ‘ کر دیا جائے گا۔ ایران نے اس کے جواب میں خلیجی ممالک میں توانائی، پانی اور تیل کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔
اسرائیلی حکام، جو ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے زور دے رہے تھے، اس جنگ بندی منصوبے کی پیشکش پر حیران رہ گئے۔
وائٹ ہاؤس نے اس 15 نکاتی منصوبے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

شیئر: