15 نکاتی تجویز کی خبروں سے جنگ بندی کی امیدیں، خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد کمی
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے. (فوٹو: شٹرسٹاک)
بدھ کو جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکہ نے ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے 15 نکاتی تجویز بھیجی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تقریباً 5 فیصد گر گئیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس خبر کے سامنے آنے کے بعد جنگ بندی کی جانب پیش رفت کی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 6.08 ڈالر یا 5.82 فیصد کم ہو کر سعودی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے 98.41 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ سیشن کے دوران یہ 97.57 ڈالر کی کم ترین سطح تک بھی گیا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز 5.09 ڈالر یا 5.51 فیصد کم ہو کر 87.26 ڈالر پر آ گیا، جبکہ اس کی کم ترین سطح 86.72 ڈالر رہی۔
دونوں معیارات منگل کے روز تقریباً 5 فیصد بڑھے تھے۔
رِسٹاڈ کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا کہ ’امریکی انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی تازہ 15 نکاتی تجویز پر ابھی غور اور ردعمل باقی ہے، لیکن رکاوٹوں کے دورانیے کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ تیز اور ہموار حل تلاش کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ طلب و رسد کے توازن اور بنیادی عوامل میں کمی کے پیش نظر تیل کی منڈی میں موجودہ بلند سطح اب ایک نیا معمول بن سکتی ہے، تاہم بیانات زیادہ تر جغرافیائی سیاست سے متاثر ہیں۔
ایران نے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے اور ایرانی فوج کے ایک ترجمان نے سرکاری میڈیا کے مطابق کہا کہ امریکہ خود سے ہی مذاکرات کر رہا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے ایسٹ منیجمنٹ کمپنی بلیک راک کے سربراہ لیری فنک نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کے لیے خطرہ بنا رہا تو دنیا کو کئی سال تک 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ’اگر تیل 150 ڈالر تک رہا تو عالمی کساد بازاری ہوگی۔‘
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تقریباً بند
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال شارٹ ٹرم میں تیل کی قیمتوں کو کو بڑھانے والا والا ’اہم عنصر‘ رہے گی۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے، جبکہ عام طور پر اس سے دنیا کے گیس اور خام تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اسے تیل کی فراہمی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل کی کمی ہو رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ 25 دن میں تقریباً 50 کروڑ بیرل یا عالمی سپلائی کے 5 دن کے برابر کمی ہو چکی ہے۔
