ایران کو جنگ بندی کے لیے امریکہ کی 15 نکاتی دستاویز موصول، کیا مذاکراتی عمل شروع ہونے جا رہا ہے؟
دو پاکستانی آفیشلز نے بدھ کو یہ کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے 15 نکات پر مشتمل دستاویز موصول ہو گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستانی حکام نے ان تجاویز کے حوالے سے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں ایران پر پابندیوں میں نرمی، سول جوہری تعاون اور ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی شق شامل ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی، میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز کے تنگ راستے کے ذریعے جہاز رسانی کی اجازت دینا بھی ان نکات میں شامل ہیں، جو خلیج عرب کی تنگ راہ گزر ہے۔
ایران نے یہ زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا، اور بدھ کو ایرانی فوج کے ایک ترجمان نے امریکہ کی سفارتی کوششوں کا مذاق اُڑایا۔
دریں اثنا، ایک مصری اہلکار جو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے متحرک ہیں، نے امریکیوں کی جانب سے پیش کردہ 15 نکات پر مشتمل تجاویز کو امن قائم کرنے کے لیے ’جامع دستاویز‘ قرار دیا ہے۔
’اس دستاویز میں ایران کے میزائل پروگرام اور مسلح گروہوں کو سازوسامان فراہم کرنے پر پابندیاں، اور آبنائے ہرمز کے تنگ راستے کے ذریعے جہاز رانی کی اجازت دینے جیسے نکات شامل ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان تجاویز کو ’مزید مذاکرات کے لیے بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘
مصری اہلکار نے مذکورہ دستاویز کی غیر شائع شدہ تفصیلات پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں ’بہت زیادہ شکوک‘ رکھتے ہیں۔
انہوں نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کا موازنہ غزہ کی جنگ بندی کے 20 نکاتی منصوبے سے کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں فریق مذاکرات کرنے پر راضی ہوتے ہیں تو ’معاہدے کی جُزیات پر کام کرنے کے لیے غیرمعمولی محنت درکار ہوگی۔‘
مصری اہلکار اور دو پاکستان حکام نے کہا کہ ثالث، ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان جلد سے جلد شاید جمعہ کو ممکنہ براہِ راست مذاکرات کے لیے زور دے رہے ہیں۔
دریں اثنا، ایرانی حکام ممکنہ طور پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں فکرمند ہیں، جنہوں نے جنگ میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلٰی قیادت کو ہلاک کیا۔
اسلام آباد اور قاہرہ سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے بدھ کے روز مشرق وسطیٰ میں میرینز کی معاونت کے لیے چھاتہ بردار بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔
ایران کی فوج نے سفارتی کوشش کا مذاق اُڑایا اور بدھ کو اسرائیل اور خلیج کے علاقے میں مزید حملے کیے، جن میں ایک حملہ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آگ لگنے کا سبب بنا۔
اس دوران جنگ کے پہلے مہاہ کے اختتام کے قریب امریکہ پر اسے ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایک سینیئر اہل کار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ممکنہ دستاویز کی تفصیلات کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن نے پاکستان میں ثالثوں کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا، جس نے مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کرنے کی پیش کش کی ہے۔
ایران کی جانب سے علاقائی توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملوں اور آبنائے ہُرمز پر کنٹرول کے باعث تیل کی قیمتیں غیرمعمولی طور پر بڑھ گئی ہیں اور توانائی کا بحران پیدا ہونے کے خوف کے باعث عالمی مارکیٹوں میں ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔