رشتہ دینے سے انکار پر فائرنگ سے لڑکی کے والد سمیت تین افراد قتل
رشتہ دینے سے انکار پر فائرنگ سے لڑکی کے والد سمیت تین افراد قتل
جمعہ 27 مارچ 2026 11:15
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
مظاہرین نے الزام لگایا کہ واقعہ پولیس کی غفلت سے پیش آیا ہے:سمیع خان
بلوچستان کے ضلع پشین میں رشتہ دینے سے انکار پر ایک ملزم نے فائرنگ کرکے لڑکی کے والد سمیت خاندان کے تین افراد کو قتل جبکہ ایک خاتون کو زخمی کردیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی شام کو کوئٹہ سے متصل پشین کے علاقے یارو میں مین بازار کے قریب اس وقت پیش آیا جب پرویز کاکڑ نامی شخص مبینہ طور پر گھر میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔
فائرنگ سے لڑکی کے والد ماسٹر محمد نسیم یوسفزئی، ان کے چچازاد بھائی شہریار یوسفزئی اور چاچی سدرہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ چچازاد بہن آمنہ زخمی ہوئیں جنہیں گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال پشین منتقل کر دیا گیا۔
ایس پی پشین اطہر رشید کے مطابق ملزم واردات کے بعد فرار ہوگیا ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی وجہ مبینہ طور پر رشتہ دینے سے انکار تھا اور لڑکی کا رشتہ پہلے ہی کراچی میں مقیم ایک نوجوان سے طے کیا جا چکا تھا جس پر ملزم نے اشتعال میں آ کر فائرنگ کی۔
واقعے کے بعد لواحقین اور مقامی افراد نے لاشیں مین چوک یارو میں رکھ کر کوئٹہ۔
چمن این 25 شاہراہ بند کردی جس کے باعث کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کے درمیان ٹریفک معطل ہوگئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
ورثا کا مطالبہ تھا کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے اور انہیں انصاف دلایا جائے۔
بلوچستان کی وزارت داخلہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی پشین سے 24 گھنٹے میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
معاون برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
ملزم واردات کے بعد فرار ہوگیا ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے: فائل فوٹو پکسابے
احتجاج کے سبب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کا برشور میں جلسے میں شرکت کا پروگرام بھی تاخیر کا شکار ہوا جہاں انہیں ضلع برشور کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے سلسلے میں خطاب کرنا تھا۔
جمعے کی صبح کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ اور ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت یارو پہنچے اور لواحقین اور مقامی عمائدین سے مذاکرات کیے۔
ڈی آئی جی پولیس نے یقین دہانی کرائی کہ قاتلوں کو تین دن کے اندر گرفتار کیا جائے گا اور لواحقین کو مکمل انصاف دیا جائے گا۔
حکام کی یقین دہانی کے بعد لواحقین نے میتیں اٹھا کر احتجاج ختم کردیا جس کے بعد تقریباً 12 گھنٹوں سے بند شاہراہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔
مظاہرین نے الزام لگایا کہ واقعہ پولیس کی غفلت سے پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم لڑکی کے خاندان کے افراد کو گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل دھمکیاں دے رہا تھا جس پر لڑکی کے والد نے یارو پولیس تھانے میں شکایت بھی درج کرائی تھی مگر اس کے باوجود پولیس نے ملزم کے خلاف بروقت کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔