Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سکیورٹی خدشات اور مشرق وسطیٰ کے صورتحال، ریکوڈک منصوبے میں تاخیر

پہلے بیرک گولڈ نے کہا تھا کہ ریکوڈک سے باقاعدہ پیداوار کا آغاز 2028 تک ہو جائے گا: فوٹو بیرک گولڈ
کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ نے پاکستان  اور مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے صوبہ بلوچستان میں واقع سونے، چاندی اور تانبے کے دنیا کے بڑے ذخائر میں سے ایک ریکوڈک منصوبے کے ترقیاتی کام کو سست کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جمعرات کو کمپنی کے ایک بیان کے مطابق ترقیاتی کام کو سست کرنے کے علاوہ ریکوڈک منصوبے کے جائزے کو ایک سال کے لیے بڑھا دیا ہے اور اس کا اطلاق جولائی 2026 سے ہو گا۔ 
کمپنی کے ترجمان کے مطابق اس فیصلے کی وجہ سے پہلے سے بتائے گئے بجت اور منصوبے کے بارے میں ٹائم لائنز متاثر ہوں گی۔ 
بیان کے مطابق اس ٹائم لائن میں توسیع سے کمپنی کو ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے اور منصوبے کی ڈیلوری کی حکمت عملی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔
خیال رہے کہ ریکوڈک منصوبہ گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف تنازعات کا شکار رہا ہے۔ دس سال قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے ریکوڈک کے منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے ساتھ معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا جسے کمپنی نے عالمی عدالت میں چیلنج کیا۔ عالمی عدالت نے کیس ہارنے پر پاکستانی حکومت پر اربوں ڈالر جرمانہ عائد کردیا تھا۔
مارچ 2022 میں پاکستانی حکومت اور ٹی سی سی کی ایک شراکت دار کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے درمیان عدالت سے باہر معاملات طے پانے کے بعد بلوچستان کابینہ اور وفاقی کابینہ نے نئے معاہدے کی منظوری دی تھی۔ 

پاکستان کے مطابق ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے: فائل فوٹو

اسی سال اگست میں بیرک گولڈ کمپنی کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو مارک برسٹو نے اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ 2024 میں ابتدائی مطالعاتی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد 2027-28 تک اس سے پیداوار کا آغاز بھی ہو جائے گا۔
جبکہ بیرک گولڈ کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ فزیبیلٹی سٹڈی کی نظرثانی کے نتائج کی بنیاد پر ریکوڈک کی کان کنی کی منصوبہ بندی روایتی اوپن پٹ اور ملنگ آپریشن پر کی جائے گی۔ جس سے ریکوڈک سے اعلیٰ معیار کے سونے اور تانبے کا کنسٹریٹ حاصل ہوگا۔ اس کی تعمیر دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں پلانٹ اندازا 40 ملین ٹن سالانہ کے حساب سے دھات کی پراسسنگ کرے گا جسے پانچ سال کے عرصہ میں دوگنا کیا جا سکے گا۔
 

شیئر: