Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے خلاف جنگ میں شامل امریکی بحری بیڑہ مرمت کے لیے کروشیا پہنچ گیا

پانچ ہزار سے زائد عملے پر مشتمل اس طیارہ بردار جہاز پر 75 سے زائد فوجی طیارے موجود ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کا بحری بیڑہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں میں تعینات تھا، سنیچر کو مرمت اور دیکھ بھال کے لیے کروشیا کی بحیرۂ ایڈریاٹک کی بندرگاہ سپلٹ میں لنگر انداز ہو گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ کا جدید ترین اور دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز فورڈ، آپریشن ’ایپک فیوری‘ میں مدد کے لیے بحیرۂ احمر میں سرگرم تھا جب 12 مارچ کو اس کے مرکزی لانڈری روم میں غی جنگی نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں تین ملاح زخمی ہو گئے۔
امریکی حکام کے مطابق تقریباً 200 ملاحوں کو دھوئیں سے متاثر ہونے کے باعث طبی امداد دی گئی، جبکہ آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے اور اس سے تقریباً 100 رہائشی بستروں کو نقصان پہنچا۔
یہ جنگی جہاز گذشتہ نو ماہ سے تعینات ہے اور مشرق وسطیٰ پہنچنے سے قبل کیریبین میں وینزویلا کے خلاف کارروائیوں میں بھی حصہ لے چکا ہے۔
تعیناتی کے دوران اسے پلمبنگ کے مسائل کا بھی سامنا رہا، جس سے جہاز پر موجود تقریباً 650 بیت الخلا متاثر ہوئے۔
فورڈ نے اس سے قبل یونان کے جزیرے کریٹ میں سوڈا بے پر عارضی قیام کیا تھا، جبکہ کروشیا کی حکومت، جو نیٹو میں امریکہ کی اتحادی ہے، نے اس کی آمد کی منظوری اسی ہفتے دی تھی۔
کروشیا میں امریکی سفارت خانے کے مطابق ’اپنے دورے کے دوران یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مقامی حکام اور اہم شخصیات کی میزبانی کرے گا تاکہ امریکہ اور کروشیا کے درمیان مضبوط اور دیرینہ اتحاد کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔‘
پانچ ہزار سے زائد عملے پر مشتمل اس طیارہ بردار جہاز پر 75 سے زائد فوجی طیارے موجود ہیں، جن میں ایف-18 سپر ہارنیٹ جیسے لڑاکا طیارے شامل ہیں، جبکہ اس میں فضائی ٹریفک کنٹرول اور نیویگیشن کے لیے جدید ریڈار نظام بھی نصب ہے۔

 

شیئر: