Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران 11 ہزار 967 غیر قانونی تارکین گرفتار

5 ہزار 111 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی  مزید 11 ہزار967 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ 5 ہزار 111 غیرقانونی  تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 19 سے 25 مارچ 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار650 افراد کو اقامہ قانون، 2 ہزار 952 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور ایک ہزار 249 کو لیبر لا کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار140 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 71 فیصد ایتھوپین، 26 فیصد یمنی اور 3 فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 42 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
 سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 17 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ 
  مجموعی طور پر 32 ہزار957 تارکین جس میں 29 ہزار 316 مرد اور 3 ہزار 641 خواتین شامل ہیں، جو اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔
3 ہزار 238 کو سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے اور 3 ہزار 416 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ 5 ہزار 111 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ 
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ  ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

 

شیئر: