بلوچستان: پنجگور میں حکومتی حمایت یافتہ افراد کے گھروں پر حملے، 5 افراد ہلاک، کئی زخمی
بلوچستان: پنجگور میں حکومتی حمایت یافتہ افراد کے گھروں پر حملے، 5 افراد ہلاک، کئی زخمی
اتوار 29 مارچ 2026 17:23
پنجگور پولیس کے ایک سینیئر افسر کے مطابق یہ حملے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پنجگور شہر کے مختلف علاقوں کلی گرمکان، خدابادان اور تسپ کے علاقوں میں کیے گئے. (فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے حکومتی حمایت یافتہ افراد کے گھروں پر بیک وقت حملے کیے۔
فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
حملہ آوروں نے متعدد گھروں میں توڑ پھوڑ کے علاوہ کم از کم چھ گاڑیوں کو بھی آگ لگا کر تباہ کردیا۔ سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں چھ عسکریت پسند مارے گئے۔
ادھر سوراب میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک پل کے نیچے تین سو کلوگرام سے زائد وزنی 8 بم برآمد کرکے دہشت گردی کا بڑا ناکام بنادیا گیا۔
پنجگور پولیس کے ایک سینیئر افسر کے مطابق یہ حملے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پنجگور شہر کے مختلف علاقوں کلی گرمکان، خدابادان اور تسپ کے علاقوں میں کیے گئے جہاں درجنوں مسلح افراد نے ایک ہی وقت میں کئی گھروں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔
مقامی لوگوں کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں پوری رات وقفے وقفے سے سنائی دیتی رہیں جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس کے مطابق کلی گرمکان میں شاہد اور کلیم اللہ کے گھروں پر مسلح افراد نے دھاوا بولا۔ شاہد کے گھر پر کیے گئے حملے میں عامر نامی شخص ہلاک جبکہ دو افراد صغیر اور غفار زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں نے گھر میں توڑ پھوڑ کے بعد تین گاڑیوں کو آگ لگا کر جلادیا۔ کلیم اللہ کے گھر کو بھی شدید نقصان پہنچایا اور وہاں موجود تین گاڑیوں سمیت گھریلو سامان کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
کلی خدابادان میں فرحان، بہرام اور سعود کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ فرحان کے گھر میں داخل ہو کر حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں فرحان کا بھائی برہان اور تین محافظ شامل تھے جن کی شناخت مجاہد، عبدالعزیز اور امداد کے نام سے ہوئی۔ بہرام اور سعود کے گھروں پر بھی فائرنگ کی گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق یہ گھر حکومت کے حمایت یافتہ افراد کے تھے جن پر کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے پہلے بھی کئی بار حملے کیے جاچکے ہیں۔
حملوں کی اطلاع ملنے پر ایف سی اور دیگر سکیورٹی فورسز علاقے میں پہنچیں اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ حکام کے مطابق کارروائی میں ڈرون کا استعمال بھی کیا گیا اور گرمکان اور پسکول ندی کے قریب جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس کے مطابق ایف سی کی بی ڈسپوزل ٹیم نے بم ناکارہ بنا دیے جن کا مجموعی وزن تقریبا تین سو بیس کلوگرام تھا۔ (فوٹو: بلوچستان پولیس)
ایف سی ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں چھ حملہ آور مارے گئے جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور اس وقت مارے گئے جب وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
صبح آٹھ بجے کے قریب علاقے کی کلیئرنس کے دوران گرمکان فٹبال چوک اور وشبود ڈسپنسری کے نزدیک مشکوک اشیا کی اطلاع پر بم ڈسپوزل ٹیموں کو طلب کیا گیا۔ اس دوران دونوں مقامات سے تقریباً پندرہ پندرہ کلوگرام وزنی دو ریموٹ کنٹرول بم برآمد ہوئے جنہیں دھماکا کرکے ناکارہ بنا دیا گیا۔
ادھر کوئٹہ سے تقریبا 215 کلومیٹر دور ضلع سوراب میں کوئٹہ کو کراچیسے ملانے والی این 25 شاہراہ پر گرگٹ کے مقام پر پل کے نیچے سے فرنٹیئر کور نے آٹھ دیسی ساختہ بم برآمد کرلیے۔
پولیس کے مطابق ایف سی کی بی ڈسپوزل ٹیم نے بم ناکارہ بنا دیے جن کا مجموعی وزن تقریبا تین سو بیس کلوگرام تھا۔ پولیس کے مطابق بم نیلے رنگ کے بڑے 8 بیرل میں رکھے گئے تھے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ یہ بم گزشتہ روز عسکریت پسندوں نے شاہراہ کی ناکہ بندی کے دورں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیے تھے لیکن بروقت نشاندہی کی وجہ سے بڑے جانی نقصان کو بچالیا گیا۔