Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈین ریاست بہار میں سٹیٹ بینک کا اے ٹی ایم سیلون کیسے بنا؟

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اے ٹی ایم کے شیشے والے کیبن میں ایک حجام اپنے گاہکوں کے بال کاٹ رہا ہے (فوٹو: دی انڈین ایکسپریس)
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے نواحی علاقے داناپور میں ایک ایسا منظر سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا بلکہ یہ پورے ملک میں تفریح، طنز اور بحث کا موضوع بھی بن گیا ہے۔
یہ اُس وقت لوگوں کی نظروں میں آیا جب انڈیا کے سب سے بڑے سرکاری بینک سٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے ایک اے ٹی ایم کیبن میں ایک حجام کے بال کاٹنے کی تصویر وائرل ہوئی۔
یہ اے ٹی ایم کیوسک کئی ماہ سے بند تھا اور اب ایک ہیئر سیلون میں تبدیل ہو چکا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دکان کے باہر بہت دنوں تک ایس بی آئی اے ٹی ایم کا نیلے رنگ کا بورڈ اپنی اصل حالت میں موجود رہا، جس کے باعث راہ گیر اور صارفین پہلے اسے ایک فعال اے ٹی ایم سمجھتے رہے، مگر اندر داخل ہونے پر اُنہیں مشینوں کی جگہ حجام اور اس کا سازوسامان دکھائی دیتا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اے ٹی ایم کے شیشے والے کیبن میں ایک حجام اپنے گاہکوں کے بال کاٹ رہا ہے، جبکہ باہر سے پورا ڈھانچہ کسی بینکنگ سہولت جیسا دکھائی دیتا ہے۔ کئی لوگ تو اے ٹی ایم کارڈ ہاتھ میں لیے رقم نکالنے کی نیت سے اندر داخل ہوئے اور پھر حیرت سے واپس لوٹے۔
مقامی میڈیا ’پٹنہ پریس‘ اور مقامی شہریوں کے مطابق یہ اے ٹی ایم کئی برس تک فعال رہی، مگر کچھ ماہ قبل اسے بند کر دیا گیا اور بعد میں اس جگہ کو اس کے مالک نے کرایے پر دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس جگہ کے مالک ایس کے سنگھ نے بتایا کہ اے ٹی ایم مشین ہٹا دی گئی تھی، لیکن پورا بیرونی سیٹ اَپ جوں کا توں باقی رہا۔ بعد ازاں ایک کرایہ دار نے یہاں سیلون کھول لیا اور ابتدا میں بورڈ بھی نہیں ہٹایا گیا۔ یہی چیز اس مقام میں سوشل میڈیا کی دلچسپی کی وجہ بن گئی۔
تاہم کچھ رپورٹس کے مطابق بینک حکام نے ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایس بی آئی کا بورڈ ہٹوا دیا تاکہ مزید غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

ملک کے کئی شہروں میں ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کے بعد اے ٹی ایم بوتھ غیر فعال ہو رہے ہیں (فوٹو: منٹ)

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد پُرمزاح تبصروں کی بھرمار ہو گئی۔ ایک صارف نے اس جگہ کو ایس بی آئی کے فل فارم کی جگہ ’سٹیٹ باربرز آف انڈیا‘ لکھا جو ایس بی آئی کے نام پر ایک لفظی کھیل تھا۔ کسی نے ’کیش وڈرال‘ لکھا جس کا مطلب تھا کہ یہاں سے نقد رقم نہیں نکالی جاتی بلکہ بالوں کی تراش خراش ہوتی ہے۔ ہندی میں بال کو ’کیش‘ کہتے ہیں۔
ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’بہار نو سیکھیوں کے لیے نہیں ہے‘، جبکہ ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ ’یہ شاید واحد اے ٹی ایم ہے جہاں واک اِن گاہکوں کی کبھی کمی نہیں ہوگی۔‘
ایک نے لکھا: ’ذار غور کیجیے، پیسے نکلوائیے، اپنے بال کٹوائیے، اے سی کے مزے لیجیے، مزے سے جائیے۔ ایک ہی جگہ سارے انتظامات۔ بہار میں کچھ بھی ممکن ہے۔‘
ریڈٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اس ’ہیئر کٹنگ اے ٹی ایم‘ پر دلچسپ تبصرے دیکھنے کو ملے۔ بعض لوگوں نے اسے ہندوستانی ’جگاڑ‘ کی ایک مثال قرار دیا، جہاں بند پڑی جگہوں کو نئے کاروبار میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
کئی صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر اے ٹی ایم بند تھی تو بینک نے اپنا سائن بورڈ بروقت کیوں نہیں ہٹایا؟ بعض نے اسے شہری بدنظمی کی مثال کہا، جبکہ کچھ نے اسے ایک تخلیقی اور معاشی حل کے طور پر سراہا۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک مزاحیہ ویڈیو وائرل ہونے کا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے شہری معاشی رجحانات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کے بعد اے ٹی ایم بوتھ غیر فعال ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ان جگہوں کا تجارتی استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔
داناپور کا یہ ’سیلون اے ٹی ایم‘ اسی رجحان کی ایک منفرد مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں ایک بند بینکنگ کیبن نے روزگار کا نیا ذریعہ اختیار کر  لیا۔
اس واقعے نے ایک اور حقیقت کو بھی اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی غیرمعمولی منظر کو چند گھنٹوں میں عالمی شہرت حاصل ہو سکتی ہے۔
داناپور کا یہ چھوٹا سا سیلون اب ایک مقامی دکان سے بڑھ کر انٹرنیٹ کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لوگ یہاں صرف بال کٹوانے نہیں بلکہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے بھی آ رہے ہیں۔ یوں یہ سابق اے ٹی ایم  بوتھ اب شہریوں کی دلچسپی کی وجہ بن گیا ہے۔

شیئر: