وژن 2030 کے اہداف کے تحت سعودی عرب ڈیجیٹل دور میں شمولیت کے لیے ایک نئے عالمی معیار کی قیادت کر رہا ہے۔
حکومتی ہدایات اور نجی شعبے کے انیشیٹیو کے ذریعے، مملکت خواتین کو اس کے مصنوعی ذہانت کے دور میں قیادت کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار کر رہی ہے۔
عرب نیوز سے گفتگو میں ہومین میں اے آئی ریسرچ کی نائب صدر عریب العویشق نے کہا کہ سعودی عرب اب مصنوعی ذہانت کی تربیت میں خواتین اور مردوں کے تناسب کے اعتبار سے دنیا میں سبقت رکھتا ہے جو مملکت کی اس شعبے میں خواتین کو آگے بڑھانے کے عزم کا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں
-
سعودی عرب نے 2026 کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا سال قرار دے دیاNode ID: 901762
انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں کہ یہ رفتار صرف تربیت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جدت کے دوسرے شعبوں تک بھی پھیلے گی۔ یہی طریقہ سعودی عرب کو منفرد بناتا ہے اور دنیا کے دیگر حصوں کے لیے بھی یہ ایک قابلِ مطالعہ ماڈل ہے۔‘
عریب العویشق جو اس شعبے میں 20 سال سے زیادہ تجربہ رکھتی ہیں اور اولین عربی اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہیں، نے زور دیا کہ سعودی عرب کی اس شعبے میں ترقی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعلیم میں دہائیوں کی مسلسل سرمایہ کاری اور 2016 کے اقتصادی ’موڑ‘ کا نتیجہ ہے۔
نائب صدر نے مزید کہا کہ ’یہ بنیاد سکالرشپ کے ذریعے رکھی گئی۔ سعودی عرب طویل عرصے سے ایک لاکھ سے زیادہ مرد و خواتین کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کر رہا ہے جیسے کہ خادم الحرمین الشریفین سکالرشپ پروگرامز۔‘
صرف 2005 میں شروع ہونے والے کنگ عبد اللہ سکالرشپ پروگرام نے دو لاکھ 50 ہزار سے زائد سعودی شہریوں کو بیرون ملک تعلیم کے لیے مالی معاونت فراہم کی ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سطح پر شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی جو دنیا کی سب سے بڑی خواتین کی یونیورسٹی ہے، دہائیوں سے ایس ٹی ای ایم، طب اور انجینیئرنگ میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم دے رہی ہیں۔ 2017 تک سعودی عرب میں خواتین گریجویٹس تعداد کے لحاظ سے مردوں سے زیادہ تھیں۔‘
عریب العویشق نے کمپیوٹر ایپلی کیشنز میں بیچلر کنگ سعود یونیورسٹی سے مکمل کیا اور بعد میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
گریجویشن کے دوران ان کے کام کا محور نیٹ ورکنگ اور انٹرنیٹ تھا، خاص طور پر ایک تقسیم شدہ نظام پر توجہ مرکوز کی گئی جو بھیڑ میں لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جیسے کہ حج زائرین۔
ان کا سفر تبدیلی کے لیے آواز اٹھانے سے شروع ہوا اور آخرکار وہ خود اس تبدیلی کی محرک بن گئیں۔ بالآخر انہوں نے اے آئی انفراسٹرکچر بنایا جو آج سعودی عرب کو مضبوط بناتا ہے۔
عریب العویشق نے بتایا کہ خواتین کے ورک فورس میں شامل ہونے کا اصل موڑ 2016 میں وژن 2030 کے ساتھ آیا۔
انہوں نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس منصوبے کا آغاز کیا، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ سعودی خواتین میں 50 فیصد سے زیادہ یونیورسٹی ڈگری یافتہ ہیں، مگر زیادہ تر ورک فورس میں شامل نہیں ہیں، اور یہ ایک ایسا اقتصادی وسیلہ ہے جسے ابھی بروئے کار نہیں لایا گیا۔

عریب العویشق نے مزید کہا کہ ’وژن 2030نے خواتین کی ورک فورس میں شمولیت کو 22 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے کا واضح ہدف مقرر کیا۔ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت نے 2017 میں خواتین پر ڈرائیونگ پر پابندی ختم کی، کام کی جگہوں پر ہراسانی کے خلاف قوانین متعارف کرائے، اور سول سٹیٹس قانون میں ترمیم کی تاکہ خواتین گھر کی سربراہ بن سکیں، کاروبار چلا سکیں اور آزادانہ سفر کر سکیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ توقعات سے بڑھ کر نکلا اور 2025 تک خواتین کی ورک فورس میں شمولیت 36 فیصد سے تجاوز کر گئی جو شیڈول سے پہلے ہوا۔
عریب العویشق نے کہا کہ ’ہومین میں، جہاں میں اس وقت کام کر رہی ہوں، ہر روز میں اپنے قابل اور بااختیار خواتین لیڈرز کے ساتھ کام کرتی ہوں، جو ہمارے زبردست ساتھیوں، مردوں اور عورتوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ یہاں کسی چیز کی کمی نہیں، توقعات وہی ہیں، اور مواقع سب کے لیے موجود ہیں۔‘
اس شعبے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس میں حکومت کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر اخراجات 2024 میں 56 فیصد سے زیادہ بڑھ گئے اور اے آئی کمپنیوں نے 9 اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔

سعودی عرب گلوبل اے آئی لینڈ سکیپ کے منظرنامے میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے اور پہلا عرب ملک بن گیا ہے جو گلوبل پارٹنرشپ آن اے آئی میں شامل ہوا اور ریاض میں یونیسکو کے تحت انٹرنیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ایتھکس کی میزبانی کر رہا ہے۔
2022 میں، سعودی ڈیٹا اور اے آئی اتھارٹی اور گوگل کلاؤڈ نے ایلیویٹ انیشیٹیو کا آغاز کیا، ایک ایسا تعاون جس کا مقصد عالمی ٹیکنالوجی شعبے میں صنفی فرق کو کم کرنا ہے۔
یہ پانچ سالہ پروگرام ابھرتے ہوئے مارکیٹوں میں 25 ہزار سے زیادہ خواتین کو مصنوعی ذہانت میں خصوصی تربیت فراہم کرکے بااختیار بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔
سعودی عرب نے نیا عالمی معیار قائم کرتے ہوئے صرف ایک سال میں چھ لاکھ 66 ہزار سے زیادہ خواتین کو ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تربیت دی، جس کے نتیجے میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے 2025 اے آئی انڈیکس کے مطابق مملکت خواتین کو اے آئی میں بااختیار بنانے کے حوالے سے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر آگئی۔












