فیفا کی جانب سے یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ اس ایونٹ میں ’ہر کوئی خود کو محفوظ محسوس کرے گا اور آزادی کے ساتھ اپنے حقوق استعمال کر سکے گا۔‘
تاہم ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ فیفا کا یہ عہد تین ممالک میزبان ممالک خصوصاً امریکہ کے زمینی حالات کے ’بالکل برعکس‘ ہے جو ایک سو چار میچوں میں سے تین چوتھائی کی میزبانی کر رہا ہے۔
ایمنسٹی کی جانب سے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور کی موجودہ صورت حال کو ’انسانی حقوق کی ایمرجنسی‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کا امریکہ کو سامنا ہے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری اور من مانی گرفتاریوں کی طرف اشارے کیے گئے ہیں اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی کارروائی کو ’نیم فوجی طرز کی کارروائیوں‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی ورلڈ کپ کے مجموعی سکیورٹی انتطامات کا اہم حصہ ہو گی (فائل فوٹو: اے ایف پی
آئی سی ای کے قائمقام ڈائریکٹر نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ ایجنسی ورلڈ کپ کے مجموعی سکیورٹی انتطامات کا اہم حصہ ہو گی۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب جنوری میں ایجنسی کے اہلکاروں کی کارروائی میں دو احتجاج کرنے والے شہری ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے خلاف عوامی سطح کافی غصہ پایا جاتا ہے۔
ایمنسٹی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی میزبان شہر کی جانب سے ایسی کوئی منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی ہے کہ شائقین اور مقامی کمیونٹیز کو کیسے آئی سی ای کی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔
رواں برس ہونے والے ورلڈ کپ میں شامل چار ممالک کے شہریوں کو امریکہ کے سفر پر پابندیوں کا سامنا ہے جن میں آئیوری کوسٹ، ہیٹی، ایران اور سینیگال شامل ہیں جبکہ انگلینڈ اور یورپ بھر سے ایل جی بی ٹی کیو پلس کے حامی گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ میں ہونے والے میچوں میں شرکت نہیں کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ’یہ ورلڈ کپ اوسط قسم کے خطرے سے بہت آگے ہے جس کا اندازہ ایک بار فیفا کو بھی ہوا تھا، اس لیے ٹورنامنٹ کے انعقاد کے عزم اور آج کے حقائق کے درمیان بڑھتی خلیج کو پُر کرنے کے لیے فوری کوششوں کی ضرورت ہے۔‘
ایمنسٹی کی رپورٹ ’ہیومنیٹی مسٹ وِن‘ میں کئی نکات کی نشاندہی کی گئی ہے (فوٹو: ایمنسٹی)
فیفا نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ 48 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ جو کہ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہے، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث ایران کی موجودگی کے حوالے سے غیریقینی کی صورت حال کے باوجود تمام ٹیموں کے لیے ’شیڈول کے مطابق‘ آگے بڑھے گا۔
فٹ بال کی عالمی باڈی کی جانب سے دسمبر 2025 میں صدر ٹرمپ کو ایک نئے تخلیق کردہ ’پیس پرائز‘ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد سے اس کو سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ ٹورنامنٹ کی وجہ سے وہ 11 ارب ڈالر کمانے کے لیے بھی پرامید ہے۔
ایمنسٹی کے اقتصادی اور سماجی انصاف کے سربراہ سٹیو کاک برن کا کہنا ہے کہ ’2026 کے ورلڈ کپ سے فیفا کو ہونے والی ریکارڈ آمدنی کی قیمت شائقین، کھلاڑیوں، صحافیوں اور دوسرے متعلق کارکنوں کو ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ لوگ ہیں، حکومتیں، سپانسرز یا فیفا نہیں، فٹ بال جن سے بھی تعلق رکھتا ہے ان کے حقوق کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔‘
ورلڈ کپ کا آغاز 11 جون کو میکسیکو سٹی سٹیڈیم سے ہو گا جبکہ فائنل 19 جولائی کو نیوجرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں شیڈولڈ ہے۔