Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ایس ایل 11: گیند سے چھیڑ چھاڑ پر فخر زمان کے خلاف لیول تھری جرم چارج، پابندی کا خدشہ

امپائرز نے گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر کراچی کنگز کو 5 رنز ایوارڈ کیے اور گیند بھی تبدیل کردی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق فخر زمان کو پی ایس ایل میچ میں گیند کی حالت تبدیل کرنے کے الزام میں چارج کیا گیا ہے جس کے بعد انہیں کم از کم ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پی سی بی کے بیان کے مطابق، فخر زمان پر لیول تھری کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے تحت پی ایس ایل سیزن میں پہلی خلاف ورزی کی صورت میں کم از کم ایک یا زیادہ سے زیادہ دو میچز کی پابندی ہو سکتی ہے۔
میچ ریفری روشن مہاناما آئندہ دو دن میں سماعت کریں گے، جبکہ فخر اس الزام کا دفاع کریں گے۔
یہ واقعہ کراچی کنگز کی اننگز کے آخری اوور کے آغاز میں پیش آیا، جب آن فیلڈ امپائر فیصل آفریدی نے حارث رؤف سے گیند لے کر معائنہ کیا۔ اس سے قبل گیند شاہین شاہ آفریدی اور فخر زمان کے پاس تھی۔
فیصل آفریدی نے دوسرے امپائر شرف الدولہ سے طویل مشاورت کے بعد گیند تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ گیند کی حالت سے مطمئن نہیں تھے۔
کراچی کنگز کو پانچ پینلٹی رنز دیے گئے، جبکہ بیٹر خوشدل شاہ اور اعظم خان کو نئی گیند منتخب کرنے کی اجازت دی گئی۔
یہ فیصلہ پی ایس ایل کے قانون 41.3 کے تحت کیا گیا، جو امپائرز کو گیند کا بار بار اور غیر معمولی معائنہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور اگر کسی کھلاڑی پر گیند کی حالت بدلنے کا شبہ ہو تو فوری جانچ ضروری قرار دیتا ہے۔
قانون 41.3.5.1 کے مطابق، کریز پر موجود بلے باز چھ مختلف استعمال شدہ گیندوں میں سے متبادل گیند منتخب کر سکتا ہے، جبکہ قانون 41.3.5.3 کے تحت اگر ذمہ دار کھلاڑی کی نشاندہی ہو جائے تو بیٹنگ سائیڈ کو پانچ پینلٹی رنز دیے جاتے ہیں۔
میچ کے بعد پریزنٹیشن میں شاہین شاہ آفریدی نے عندیہ دیا کہ وہ خود بھی پینلٹی رنز کی وجہ سے لاعلم تھے، انہوں نے کہا 'ہم دیکھیں گے کہ امپائرز کیا کہتے ہیں'۔
یہ پانچ پینلٹی رنز میچ میں فیصلہ کن ثابت ہوئے، کیونکہ اس سے ہدف 14 رنز (6 گیندوں پر) سے کم ہو کر 9 رنز رہ گیا۔
دوسری جانب، کراچی کنگز کے حسن علی پر 19ویں اوور میں حسیب اللہ کی وکٹ لینے کے بعد نامناسب جشن منانے پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔ یہ لیول ون خلاف ورزی تھی، جو پی ایس ایل ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.5 کے تحت آتی ہے، جس میں ایسے الفاظ یا حرکات شامل ہیں جو بیٹر کو اشتعال دلا سکتی ہوں۔

 

شیئر: