Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کی مشکلات برقرار، 12 سے زائد پروازیں منسوخ

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کے ایئرپورٹس پر بیرون ملک جانے والی متعدد پروازیں شیڈول کے مطابق روانہ نہ ہو سکیں۔
پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے پیر کو بھی مشکلات کا سلسلہ جاری رہا، اور مختلف ایئرپورٹس سے روانہ ہونے والی 12 سے زائد پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن متاثر ہو رہا ہے، تاہم جزوی بحالی کے آثار بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس سے مسافروں کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کے ایئرپورٹس پر بیرون ملک جانے والی متعدد پروازیں شیڈول کے مطابق روانہ نہ ہو سکیں۔ کچھ پروازوں میں تاخیر ہوئی جبکہ چند کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔ ان پروازوں میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کو جانے والی پروازیں شامل تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان پروازوں کی متاثر ہونے کی بڑی وجہ خطے میں موجود غیریقینی کی صورتحال ہے، جس کے باعث بعض فضائی راستوں کو عارضی طور پر محدود یا تبدیل کیا گیا ہے۔ فضائی کمپنیوں کو متبادل روٹس اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف پروازوں کے دورانیے میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ممالک کی جانب سے احتیاطی اقدامات کے تحت فضائی حدود کے استعمال پر عارضی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
تاہم اس تمام صورتحال کے درمیان ایک مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے پروازوں کی جزوی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ بعض ایئرلائنز نے محدود پیمانے پر اپنی سروسز دوبارہ شروع کر دی ہیں، جبکہ کچھ روٹس پر پروازیں نئے شیڈول کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔
مسافروں نے جزوی بحالی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مشکلات ابھی بھی موجود ہیں، لیکن پروازوں کی بحالی سے امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد ہی صورتحال معمول پر آ جائے گی۔ خاص طور پر وہ افراد جو روزگار کے سلسلے میں خلیجی ممالک جاتے ہیں، یا خلیجی ممالک سے ٹرانزٹ لیتے ہوئے امریکہ، یورپ اور دیگر دور دراز ممالک کے لیے سفر کرتے ہیں۔ ان مسافروں کے لیے یہ پیش رفت نہایت اہم ہے کیونکہ تاخیر کی صورت میں انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

ایئرلائنز کی جانب سے بھی مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ آنے سے قبل اپنی پروازوں کی صورتحال ضرور چیک کریں۔ کئی ایئرلائنز نے اپنی ویب سائٹس اور ہیلپ لائنز کے ذریعے تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے تاکہ مسافروں کو غیرضروری پریشانی سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض ایئرلائنز متاثرہ مسافروں کو ری بکنگ اور ریفنڈ کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور علاقائی حالات کس طرح فضائی سفر کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ایک اہم فضائی راہداری ہے جہاں سے روزانہ سینکڑوں بین الاقوامی پروازیں گزرتی ہیں۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا سکیورٹی خدشات فوری طور پر عالمی ایوی ایشن نیٹ ورک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں بڑی تعداد میں شہری بیرون ملک روزگار کے لیے سفر کرتے ہیں، اس قسم کی صورتحال خاص طور پر حساس ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی منڈی ہیں، اور پروازوں میں تعطل سے نہ صرف مسافروں بلکہ معیشت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ زرمبادلہ کی ترسیلات، جو پاکستان کی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہیں، ان پر بھی بالواسطہ اثر پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی خطے میں حالات مزید بہتر ہوں گے، پروازوں کی مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی۔ اس دوران مسافروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایئرلائنز کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

 

شیئر: