Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملک بھر میں فضائی آپریشن شدید متاثر، درجنوں پروازیں منسوخ، صورت حال معمول پر نہ آسکی

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان بھر کے مختلف ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ 
بدھ کو مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ جانے والی 35 پروازی منسوخ کردی گئیں، جس سے ہزاروں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایوی ایشن حکام کے مطابق جنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ مشرق وسطیٰ کے رُوٹس متاثر ہوئے ہیں جہاں پاکستان سے دوحہ، دبئی، ابوظہبی، شارجہ، کویت، بحرین اور دیگر شہروں کے لیے پروازیں یا تو منسوخ کی گئیں یا تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ 
پشاور سے دوحہ، دبئی، ابوظہبی اور شارجہ کی 12 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور سے اندرونِ ملک چار چار پروازیں منسوخ کی گئیں۔
کراچی ایئرپورٹ کی صورت حال بھی خاصی پریشان کن رہی جہاں بحرین، بغداد، دوحہ، شارجہ، ابوظہبی اور دبئی جانے والی 12 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ 
اسی طرح لاہور سے کویت، شارجہ، دوحہ، بحرین اور دمام کی 10 پروازیں منسوخ ہونے سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ 
اسلام آباد ایئرپورٹ پر بھی حالات مختلف نہ تھے، جہاں جدہ، دوحہ، نجف، کویت اور دبئی کے لیے 11 پروازیں منسوخ کی گئیں۔
کراچی سے دبئی کے لیے سفر کرنے والے ایک مسافر نے بتایا کہ وہ عید منانے کے بعد دبئی واپس جا رہے تھے مگر ان کی پرواز اچانک منسوخ کر دی گئی اور اب انہیں اگلی دستیاب فلائٹ کے لیے کئی دن انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اُن کی چھٹیاں اور ویزے کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کی منسوخی کی وجوہات میں آپریشنل مسائل، موسمی حالات، اور بین الاقوامی فضائی حدود میں دباؤ شامل ہیں۔ 
حکام کے مطابق عید کے بعد مسافروں کی غیر معمولی تعداد بھی فلائٹس منسوخ ہونے کا سبب بنی جس کی وجہ سے شیڈول برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق دوحہ سے پاکستان کے لیے فلائٹ آپریشن بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے اور آئندہ چند روز میں مزید پروازیں بحال کیے جانے کا امکان ہے۔ 
اسی طرح متحدہ عرب امارات کے فجیرہ ایئرپورٹ سے پاکستان کے لیے پروازوں کا سلسلہ جاری ہے، جو مسافروں کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کر رہا ہے۔
عید کے بعد کی صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی عید کے فوراً بعد سفری دباؤ معمول سے کم ہے۔ 
اوورسیز پاکستانی جو عید کی چُھٹیاں اپنے آبائی علاقوں یا بیرون ملک گزارنے کے بعد واپس اپنے کاموں پر لوٹتے ہیں، انہیں فلائٹ آپریشن میں خلل کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایوی ایشن سیکٹر کو مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی وجہ سے شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سول ایوی ایشن حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ آنے سے پہلے اپنی پرواز کی صورتِ حال متعلقہ ایئرلائن سے ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔ 
حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ منسوخ ہونے والی فلائٹس کے مسافروں کو متبادل پروازیں فراہم کی جائیں گی، تاہم اس میں وقت لگ سکتا ہے۔
اُدھر ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ پروازوں کی منسوخی کے باعث ٹکٹوں کی ری شیڈولنگ کا عمل بھی متاثر ہوا ہے اور کرایوں میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ 
کئی مسافروں کو ہنگامی بنیادوں پر مہنگے ٹکٹ خریدنا پڑ رہے ہیں، جس سے ان کے سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق فضائی آپریشن میں اس طرح کی رکاوٹیں نہ صرف مسافروں بلکہ ملکی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، کیونکہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی بروقت واپسی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بزنس ٹریولرز اور کارگو سروسز بھی اس صورت حال سے متاثر ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگرچہ بعض رُوٹس پر فلائٹ آپریشن بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم مکمل معمول پر آنے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے۔ 
مسافروں کو صبر و تحمل سے کام لینے اور ایئرلائنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد سے جلد اس بحران پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔

 

شیئر: