Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی جنگ روک سکتے ہیں: مصری صدر

عبدالفتاح السیسی نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کا کریڈٹ بھی صدر ٹرمپ کو دیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صرف وہی اس تنازع کو ختم کر سکتے ہیں، اور خبردار کیا کہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے خدشات مبالغہ آرائی نہیں ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو قاہرہ میں منعقدہ مصر انرجی شو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے صدر السیسی نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ سے کہتا ہوں: خلیجی خطے میں جاری اس جنگ کو آپ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔ براہِ کرم جناب صدر، ہماری مدد کریں اور اس جنگ کو ختم کریں۔ آپ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
مصر، جو طویل عرصے سے امریکی فوجی امداد اور خلیجی ممالک کی حمایت حاصل کرتا رہا ہے، نے خلیجی عرب ریاستوں پر ایرانی حملوں کی مذمت بھی کی ہے اور وسیع علاقائی جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا ہے۔

رسد کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات

مصری صدر نے خبردار کیا کہ یہ جنگ رسد میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کے دوہرے بحران کو جنم دے گی، جس کے مکمل اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’توانائی کی تنصیبات، چاہے وہ پیداوار سے متعلق ہوں یا ریفائنریز، کو نشانہ بنانا عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر انتہائی سنگین اثرات مرتب کرے گا۔‘
ان کے مطابق ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو سکتی ہے، اور یہ کوئی مبالغہ نہیں۔
عبدالفتاح السیسی نے عالمی خوراک کی فراہمی کے حوالے سے بھی ممکنہ بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کھاد کی برآمدات میں خلل قیمتوں پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’امیر ممالک شاید اس دباؤ کو برداشت کر لیں، لیکن درمیانی آمدنی اور کمزور معیشتوں کے لیے یہ ان کے استحکام پر انتہائی شدید اثر ڈال سکتا ہے۔‘

مصری صدر کے مطابق ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

مصر اور اسرائیل کے درمیان سنہ 1979 کے امن معاہدے کے بعد سے سفارتی تعلقات قائم ہیں، جس کے تحت جزیرہ نما سینائی مصر کو واپس ملا تھا۔ تاہم یہ تعلقات اکثر ’سرد امن‘ کہلاتے ہیں، اور قاہرہ کو طویل عرصے سے خدشہ ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے اس کی سرحد کی جانب منتقل ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
عبدالفتاح السیسی نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کا کریڈٹ بھی صدر ٹرمپ کو دیا، اور کہا کہ جنگ بندی سے قبل بھی صرف امریکی صدر ہی اس تنازع کو ختم کر سکتے تھے۔ یہ جنگ بندی معاہدہ گذشتہ برس نومبر میں مصری سیاحتی مقام شرم الشیخ میں طے پایا تھا۔

 

شیئر: