آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایرانی تیل اور بجلی کی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے: صدر ٹرمپ
اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ شمالی شہر حیفہ میں واقع ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دوبارہ خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ امریکہ اس کے تیل کے کنوؤں اور بجلی گھروں پر حملے کر سکتا ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا جو غالباً طے پا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو اگر فوراً ’کاروبار کے لیے کھولا‘ نہ گیا، تو ہم ایران میں اپنے اس خوبصورت ‘قیام’ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ جزیرے کو تباہ کر کے کریں گے۔‘
ایران نے پیر کو اسرائیل پر متعدد میزائل حملے کیے اور ’جارح کو سزا دینے‘ کا عزم ظاہر کیا، جبکہ اسرائیلی فورسز نے تہران پر بمباری کی۔ اس کے ساتھ ہی یمن کے حوثیوں کے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے آنے والے دو ڈرونز کو مار گرایا گیا، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران کے حامی حوثیوں نے ایران اور امریکہ، اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر میزائل داغے۔
ریفائنری پر حملہ
اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ شمالی شہر حیفہ میں واقع ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا، جس کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی فوج نے یہ اعلان کیا کہ اسے ایران کی جانب سے نئے آنے والے میزائلوں کا سراغ ملا ہے۔
ٹی وی نیٹ ورک چینل 12 نے متاثرہ مقام سے آسمان کی طرف اُٹھتا ہوا گاڑھا سیاہ دھواں دکھایا، جبکہ اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو سروسز نے ایک سلنڈر نما ٹینک کی تصاویر جاری کیں جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ریفائنری کو براہِ راست ایران یا لبنان سے آنے والے کسی میزائل نے نشانہ بنایا، یا پھر کسی ہدف تک پہنچنے میں ناکام میزائل کا ملبہ گرا۔
اے ایف پی کو موصول ہونے والی ویڈیو، جو میڈیا کی جانب سے حملے کی خبر کے فوراً بعد بنائی گئی، میں سلنڈر نما ٹینکوں کے اوپر سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے گئے۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد موقع پر پہنچنے والے اے ایف پی کے صحافیوں نے بتایا کہ دھواں کم ہو چکا تھا اور فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسرائیل کے تیسرے بڑے شہر حیفہ میں واقع یہ ریفائنری ایک بڑے صنعتی علاقے میں قائم ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’اس کی افواج تہران میں بنیادی عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہیں اور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں وہ بنیادی ڈھانچہ بھی نشانہ بنایا گیا جو حزب اللہ استعمال کرتی ہے۔‘
اسرائیلی حکام کے مطابق ’ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ نے بھی سوموار کو اسرائیل پر مزید راکٹ داغے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکہ اور ایران ’براہِ راست اور بالواسطہ‘ ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ایران کے نئے رہنما ’بہت معقول‘ ہیں جو 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کے بعد منتخب ہوئے۔
لیکن صدر ٹرمپ نے مزید امریکی فوجی بھی خطے میں بھیجے ہیں، جس کی وجہ سے ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ ’وہ (امریکا) ممکنہ مذاکرات کے پیغامات بھیج رہا ہے جبکہ زمینی حملے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے، اور تہران کو مزید مزاحمت پر مجبور کر رہا ہے۔
ایران کو ثالثوں کے ذریعے یہ پیغامات موصول ہوئے کہ امریکہ مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ امریکی تجاویز کو ’غیرحقیقت پسندانہ، غیرمنطقی اور ضرورت سے زیادہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔
اسماعیل بقائی کی پریس کانفرنس پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات کے ایک روز بعد ہوئی، جس میں بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کی تجاویز پر ابتدائی بات چیت کی گئی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہماری پوزیشن واضح ہے۔ ہم فوجی جارحیت کا شکار ہیں، لہٰذا ہماری تمام تر کوششیں اور طاقت اپنے دفاع پر مرکوز ہیں۔‘
ایران کا مزاحمتی موقف
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نےایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابنِ رضا کا اپنے ترک ہم منصب کو دیا گیا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ’تہران جارحوں کو سزا دینے، جارحیت سے باز رکھنے اور جنگ کو دوبارہ ہونے سے روکنے‘ کو یقینی بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
ایک ماہ سے جاری یہ جنگ پورے خطے میں پھیل چکی ہے، ہزاروں شہری ہلاک ہوئے، توانائی کی فراہمی میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہوئی اور عالمی معیشت متاثر ہوئی۔
تیل کی قیمتیں سوموار کو بڑھ گئیں، مقامی وقت کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 2.8 فی صد اضافے کے ساتھ تقریباً 116 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر طور پر بندش نے توانائی کی مارکیٹوں میں شدید خلل پیدا کیا ہے کیونکہ یہاں سے دنیا کے تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے اور یہ مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا راستہ بھی ہے۔
حوثیوں کے اسرائیل پر حملے اس امکان کو بڑھاتے ہیں کہ وہ دوسرا اہم بحری راستہ، آبنائے باب المندب کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں یا بلاک کر سکتے ہیں۔
’معنی خیز مذاکرات‘
پاکستان، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے کہا ہے کہ ’وہ آئندہ دنوں میں جنگ ختم کرنے کے لیے ’معنی خیز مذاکرات‘ کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔‘ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اور ایران نے ان مذاکرات میں شرکت پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم ان (ایران) کے ساتھ ایک معاہدہ کریں گے، مجھے کافی یقین ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ نہ کریں۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے بعد تہران میں پہلے ہی ’ریجم چینج‘ کا مقصد حاصل ہو چکا ہے، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی دیگر اعلیٰ قیادت ماری گئی لیکن انہوں نے دو بار کہا کہ ان کے جانشین ’معقول‘ لگتے ہیں۔ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحب زادے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کے پاس زمینی حملے کا آپشن بھی موجود ہے، امریکی محکمۂ دفاع نے مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں فوجی بھیجے ہیں، لیکن متعدد ذرائع کے مطابق انہوں نے ان منصوبوں کی منظوری نہیں دی۔
