Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور: جدوجہدِ آزادی کی نمایاں یادگار کیمپ جیل کو کہاں منتقل کیا جا رہا ہے؟

آج جس جیل کو پورا لاہور کیمپ جیل کے نام سے جانتا ہے یہاں اصل میں برطانوی دور میں لاہور سینٹرل جیل قائم تھی۔ (پنجاب پرزنز)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے لاہور کی تاریخی کیمپ جیل کو موجودہ مقام سے منتقل کرکے کوٹ لکھپت کے قریب نئی جگہ قائم کرنے کی تیاری نے شہر کی ایک ایسی عمارت کو پھر سے توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جو صرف ایک جیل نہیں بلکہ لاہور کی نوآبادیاتی، سیاسی اور عدالتی تاریخ کا ایک اہم باب بھی ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق شادمان میں واقع موجودہ ڈسٹرکٹ جیل لاہور سنہ 1930 میں قائم ہوئی تھی اور اس کا کل رقبہ 32 ایکڑ چار کنال ایک مرلہ درج ہے۔ جبکہ پنجاب جیل خانہ جات کے ریکارڈ کے مطابق سنہ 1965 میں سینٹرل جیل کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا اور اس تاریخی عمارت کو لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل یا کیمپ جیل کا درجہ دے دیا گیا۔
خیال رہے کہ محکمۂ داخلہ پنجاب نے اس تاریخی جیل کی عمارت کو یہاں سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ جیل کو کوٹ لکھپت سینٹرل جیل کے ساتھ اگلے دو سے تین برس میں نئی عمارت مکمل ہونے پر منتقل کر دیا جائے گا۔ اس پر 10 سے 12 ارب روپے لاگت آئے گی۔ جبکہ موجودہ جگہ کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
آج جس جیل کو پورا لاہور کیمپ جیل کے نام سے جانتا ہے یہاں اصل میں برطانوی دور میں لاہور سینٹرل جیل قائم تھی۔ شادمان چوک اور اس کے گرد و نواح سے متعلق تاریخی مواد واضح کرتا ہے کہ یہ وہی علاقہ تھا جہاں لاہور جیل کا پھانسی گھاٹ واقع تھا۔ اس مقام پر مختلف ادوار میں کئی انقلابیوں کو پھانسی دی گئی، جبکہ 23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو بھی یہیں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ جس جگہ پھانسی دی گئی وہاں آج کل شادمان چوک ہے اور کیمپ جیل سکڑ کر چھوٹی ہو چکی ہے۔ 
یوں یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ موجودہ کیمپ جیل کی زمین محض ایک پرانی جیل کی جگہ نہیں بلکہ برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کی ایک نمایاں یادگار بھی ہے۔ بھگت سنگھ کے علاوہ اس مقام کے ساتھ جتندر ناتھ داس کا نام بھی جڑا ہوا ہے جو لاہور جیل میں قیدیوں کے حقوق کے لیے طویل بھوک ہڑتال کے بعد سنہ 1929 میں دنیا چھوڑ گئے تھے۔ شادمان کے اسی علاقے کے بارے میں تاریخی تحریریں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس پھانسی گھاٹ پر اس سے پہلے بھی کئی انقلابیوں کو لایا گیا۔ اس لیے کیمپ جیل کی تاریخ صرف جیل انتظامیہ کی تاریخ نہیں بلکہ برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی تاریخ بھی ہے۔
اس جیل میں بڑا عرصہ سپرنٹنڈٹ رہنے والے سابق جیلر گلزار بٹ نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ ڈسٹرکٹ جیل ہے اس لیے اس کو کیمپ جیل کہا جاتا ہے کہ یہاں انڈر ٹرائل قیدی رکھے جاتے ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدی سینٹرل جیل میں ہوتے ہیں۔
’پاکستان پرزن رولز کے مطابق زیرِسماعت قیدیوں کو سزا یافتہ قیدیوں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ اسی لیے ڈسٹرکٹ جیلوں کو ایسے قیدیوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جو مقدمات کے مرحلے میں ہوں، جبکہ طویل المدت اور سنگین سزا یافتہ قیدی سینٹرل جیلوں میں رکھے جاتے ہیں۔ اسی انتظامی تقسیم نے عوامی زبان میں شادمان والی جیل کو کیمپ جیل کی شناخت دی یعنی وہ جیل جہاں حوالاتی زیادہ ہوں۔‘

اسی جیل کے سرکاری تعارفی صفحے پر قیدیوں کی گنجائش 1050 بتائی گئی ہے (فوٹو: پنجاب پرزنز)

پنجاب جیل خانہ جات کے اعداد و شمار کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل لاہور میں 6344 مرد قیدی درج ہیں، جن میں 5993 زیرسماعت اور 351 سزا یافتہ ہیں۔ اسی جیل کے سرکاری تعارفی صفحے پر مجاز گنجائش 1050 بتائی گئی ہے۔ حکومت جیل کی اس تبدیلی کو جیل اصلاحات سے منسوب کر رہی ہے کیونکہ جیل کی نئی عمارت کشادہ اور زیادہ قیدیوں کو رکھنے کے لیے بہتر ہو گی۔
سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بڑے پیمانے پر جیل اصلاحات کر رہے ہیں، لاہور کیمپ جیل کو کوٹ لکھپت کے قریب منتقل کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’شہر کے وسط میں موجود یہ وسیع رقبہ کسی دوسرے استعمال میں لایا جا سکتا ہے اور جیل کو ایسی جگہ منتقل کیا جا رہا ہے جہاں موجودہ ضرورتوں کے مطابق نئی عمارت، زیادہ گنجائش اور سکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہے۔‘
لاہور کی کیمپ جیل کی پرانی ساخت کے بارے میں سرکاری ریکارڈ صرف رقبے کی واضح تفصیل دیتا ہے مگر یہ بات طے ہے کہ یہ جیل برطانوی دور کی اُس مرکزی جیل کی جگہ پر قائم رہی جس نے ابتدا میں لاہور کے بڑے قید خانے کے طور پر کام کیا۔ بعد میں جب کوٹ لکھپت میں نئی سینٹرل جیل قائم ہوئی تو مرکزی جیل کا ادارہ وہاں منتقل ہو گیا اور شادمان والی عمارت نے ڈسٹرکٹ جیل یا کیمپ جیل کی حیثیت اختیار کر لی۔

23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو بھی اسی جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا (فوٹو: منی کنٹرول)

اس جیل کی عمارت اور اندرونی بندوبست میں وقت کے ساتھ یقیناً کئی تبدیلیاں آئیں مگر اس کے بنیادی تاریخی نشان مٹ نہیں سکے۔ شادمان چوک کے ساتھ اس مقام کی نسبت آج بھی اتنی مضبوط ہے کہ بھگت سنگھ کی برسی کے موقع پر ہر برس اسی علاقے کا حوالہ دیا جاتا ہے اور اسے سابقہ لاہور جیل کے پھانسی گھاٹ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 

 

شیئر: