راتوں رات کھمبے اور تاریں غائب: بلوچستان میں چور کیسے بجلی کا نظام متاثر کر رہے ہیں؟
راتوں رات کھمبے اور تاریں غائب: بلوچستان میں چور کیسے بجلی کا نظام متاثر کر رہے ہیں؟
منگل 31 مارچ 2026 6:05
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
گزشتہ برس کوئٹہ، خضدار، کچھی، مستونگ اور سبی کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ایسی چوری کے واقعات رپورٹ ہوئے (فائل فوٹو: کیسکو)
بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے ہیڈ کوارٹر گنداواہ میں دو روز تک مکمل بلیک آؤٹ رہا اور 50 ہزار سے زائد آبادی اندھیرے میں ڈوبی رہی۔
ابتدا میں شہریوں کو لگا کہ بجلی کی بندش معمول کی فنی خرابی ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بڑے پیمانے پر ہونے والی چوری کا نتیجہ تھی۔
پولیس کے مطابق ضلع کچھی کے علاقے بھاگ میں قائم گرڈ سٹیشن سے گنداواہ جانے والی 33 کے وی لائن کے 26 کھمبوں سے راتوں رات تاریں چوری کر لی گئیں جبکہ پانچ کھمبے بھی گرائے گئے جس کے بعد گنداواہ کی بجلی منقطع ہو گئی۔
یہ واردات بھاگ کی حدود میں ہوئی جس کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔
’تاریں چوری کرنے کے لیے جدید آلات کا استعمال‘
الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ یہ دو ماہ کے دوران دوسری بڑی چوری ہے۔ اس سے پہلے اسی علاقے میں لہڑی اور بھاگ فیڈر کے 24 کھمبوں سے تاریں چوری ہو چکی ہیں۔ پولیس میں مقدمہ درج ہوا لیکن ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
افسر کے مطابق یہ کام ایک منظم گروہ کرتا ہے جو پہلے لائن میں فالٹ پیدا کرتا ہے اور بجلی بند ہونے کے بعد آسانی سے تاریں اتار لیتا ہے۔ چور جدید آلات استعمال کرتے ہیں اور بعض اوقات لوہے اور سیمنٹ کے کھمبے تک بھی گرا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رات کے وقت سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عملہ گشت نہیں کر پاتا اور چور اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بجلی منقطع کرنے کا طریقہ ایسا ہے کہ گرڈ سٹیشن کو فوری طور پر معلوم نہیں ہوتا اور جب ٹیم پہنچتی ہے تو چور فرار ہو چکے ہوتے ہیں۔
کیسکو کے ترجمان نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب بھاگ میں 26 کھمبوں سے کنڈکٹرز (بجلی کی تاریں) چوری ہوئیں تاہم جھل مگسی سے متبادل لائن کے ذریعے گنداواہ کو عارضی طور پر بجلی دی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق ہسپتال، سرکاری دفاتر اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے جبکہ متاثرہ لائن کی بحالی پر کام جاری ہے۔
چوری کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا (فائل فوٹو: کیسکو)
تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ متبادل لائن سے ملنے والی بجلی کا وولٹیج اتنا کم ہے کہ صرف بلب جل سکتے ہیں یا موبائل فون چارج ہو سکتے ہیں۔ گنداواہ کے رہائشی عبدالمجید لاشاری نے اردو نیوز کو بتایا کہ تین دنوں سے واٹر سپلائی ٹیوب ویل بند ہیں جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
کیسکو حکام کے مطابق یہ واقعہ انوکھا نہیں۔ حالیہ مہینوں میں بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں 11، 33 اور 132 کے وی کی مین ٹرانسمشن لائنوں سے بجلی کی تاریں اور دیگر برقی آلات چوری ہونے کے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں اور اس میں کئی منظم گروہ ملوث ہیں۔
رواں سال جنوری میں کوئٹہ کے انڈسٹریل گرڈ کے تین فیڈرز کے 24 کھمبوں سے ہزاروں میٹر تاریں چوری ہوئیں جن کی مالیت کم از کم 77 لاکھ روپے بتائی گئی۔
گزشتہ سال کے دوران کوئٹہ، خضدار، کچھی، مستونگ اور سبی کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ایسی چوری کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
مستونگ کے علاقے دشت میں 59 اور عاصم آباد فیڈر کے 148 کھمبوں سے تاریں چوری ہوئیں۔ اسی عرصے میں مستونگ میں مزید 19 اور سبی میں 26 کھمبوں سے تاریں کاٹ کر لے جائی گئیں۔ مستونگ کے کھڈ کوچہ میں ایک اور واقعے میں 45 کھمبوں کی تاریں چوری ہوئیں۔
کوئٹہ کے قریب شیخ ماندہ سے یارو تک تقریباً چار ہزار میٹر تار چوری کی گئی اور ایک ٹاور گرایا گیا۔ مستونگ کے دشت اور اسپلنجی میں چوروں نے بھاری مشینری سے 13 ٹاور گرائے اور تاروں کے ساتھ انسولیٹرز اور دیگر برقی آلات لے گئے۔
مسلم باغ میں 11 کے وی کے فیڈر کے 10 کھمبوں سے 3600 میٹر تاریں چوری کی گئیں۔
جنوری میں کوئٹہ کے انڈسٹریل گرڈ کے تین فیڈرز کے 24 کھمبوں سے ہزاروں میٹر تاریں چوری ہوئیں (فوٹو: کیسکو)
اسی طرح کچلاک، یارو، بوستان، قلات، سوراب اور ڈھاڈر کے علاقوں میں بھی بار بار ایسی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ کئی بار ملزمان رنگے ہاتھوں بھی پکڑے گئے تاہم زیادہ تر واقعات میں ملزمان فرار ہو گئے اور چوری شدہ سامان برآمد نہیں ہو سکا۔
کیسکو حکام کے مطابق چور ٹرانسمیشن لائن پر رسی یا لوہے کی زنجیر ڈال کر فالٹ پیدا کرتے ہیں جس سے پورا فیڈر ٹرپ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ملزمان سپلائی کاٹ کر کنڈکٹرز/تاریں، انسولیٹرز اور دیگر برقی آلات چوری کر لیتے ہیں۔ بعض جگہ بھاری مشینری سے ٹاور بھی گرائے جاتے ہیں اور پھر بریس پٹیاں نکال دی جاتی ہیں۔
ان کے بقول بارش، آندھی، تخریب کاری یا کسی اور وجہ سے پہلے سے گرنے والے ٹاور کی بھی بریس پٹیاں چوری کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔
کیسکو ترجمان کے مطابق وارداتوں سے نہ صرف کمپنی کو مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔ تمام واقعات کے مقدمات درج کیے گئے ہیں اور پولیس کے ساتھ کارروائیاں جاری ہیں۔
کیسکو ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی کے نظام کی حفاظت میں تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری دیں۔
ایسے صوبے میں جہاں محکمۂ شماریات کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 43 فیصد گھرانے پہلے ہی بجلی سے محروم ہیں یہ وارداتیں نظام پر مزید دباؤ ڈال رہی ہیں۔
تاروں کی چوری سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے (فائل فوٹو)
’کیسکو ملک کی سب سے زیادہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں میں شامل‘
نیپرا کی 2022-23 کی رپورٹ کے مطابق کیسکو ملک کی سب سے زیادہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں میں شامل ہے اور ہر ماہ اربوں روپے کا نقصان اٹھا رہی ہے۔
کیسکو کو سرکاری ، نجی اور زرعی صارفین کے 730 ارب روپے سے زائد واجبات وصولی میں ناکامی کا سامنا ہے ۔
بلوچستان حکومت وفاق کے تعاون سے زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے پر 50 ارب روپے سے زائد خرچ کر رہی ہے تاکہ نقصانات کم کیے جا سکیں۔
اس کے باوجود کم وصولیوں، بجلی چوری اور لائن لاسز کے باعث طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے اور کئی علاقوں میں روزانہ صرف دو سے چار گھنٹے بجلی ملتی ہے۔ ایسے میں چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پہلے سے کمزور نظام پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔
مستونگ کے ایک زمیندار عبداللہ بلوچ نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں تاروں کی چوری زیادہ تر ان علاقوں میں ہوئی جہاں زرعی فیڈرز سے بجلی کی فراہمی معطل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ شمسی توانائی منصوبے کے بعد زرعی صارفین کے ٹیوب ویل کنکشن منقطع کرنے کے لیے پورے دیہات کو فیڈر سے ہی کاٹ دیا گیا۔
لائنوں، تاروں اور برقی آلات کی بار بار چوری کے بعد لاکھوں لوگ بجلی سے محروم ہوئے ہیں (فائل فوٹو: کیسکو)
عبداللہ بلوچ کے مطابق جب پورے گاؤں کی بجلی بند ہو گئی تو لائنیں غیر فعال ہو گئیں اور نگرانی کم ہونے کے باعث چوری آسان ہو گئی۔ ایک عام دیہات میں چند ٹیوب ویل اور سینکڑوں گھروں کے کنکشن ہوتے ہیں لیکن زرعی بجلی روکنے کے لیے پورے گاؤں کو ہی بجلی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بجلی بنیادی ضرورت ہے اور شمسی توانائی سے ملنے والی محدود بجلی اس کا متبادل نہیں بن سکتی اسی وجہ سے لوگ دیہات چھوڑ کر شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
عبداللہ بلوچ نے مزید کہا کہ کیسکو کی جانب سے دیہی علاقوں کی بجلی کاٹنے اور لائنوں، تاروں اور برقی آلات کی بار بار چوری کے بعد لاکھوں لوگ بجلی سے محروم ہوئے ہیں۔
ان کے بقول اب ہمیں یہ امید ہی نہیں کہ کبھی دوبارہ مستحکم اور مسلسل بجلی حاصل کر پائیں گے۔