علی ظفر ہتکِ عزت کیس: 8 سال بعد فیصلہ، میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے جرمانہ
2018 میں جنسی ہراسگی کا الزام لگانے پر علی ظفر نے گلوکارہ میشا شفیع پر ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کر دیا تھا۔ (فوٹو: انسٹاگرام)
گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے دعوے میں آٹھ برس بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف دعویٰ جزوی طور پر منظور کر لیا اور انہیں پچاس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لاہور آصف حیات نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ میشا شفیع کی 19 اپریل 2018 کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تحریر اور 21 اپریل 2018 کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں علی ظفر کے خلاف جسمانی نوعیت کی جنسی ہراسانی کے جو الزامات لگائے گئے، وہ ثابت نہیں ہو سکے، اس لیے وہ ہتک آمیز اور نقصان دہ قرار پاتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مدعی یعنی علی ظفر کو ان الزامات کے باعث شہرت، وقار اور ذہنی اذیت کی صورت میں نقصان پہنچا، اس لیے وہ ہرجانے کے حق دار ہیں۔ تاہم عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ خصوصی مالی نقصان کا دعویٰ قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت نہیں کیا جا سکا، اسی بنا پر ایک سو کروڑ روپے کے دعوے کے مقابلے میں صرف عمومی ہرجانے کی مد میں پچاس لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے میشا شفیع کو آئندہ اسی نوعیت کے الزامات دوبارہ دہرانے، شائع کرنے یا کسی بھی ذریعے سے پھیلانے سے بھی مستقل طور پر روک دیا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے عدالتی اخراجات خود برداشت کریں گے۔
یہ مقدمہ 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کا الزام عائد کیا۔ اس الزام کے بعد یہ معاملہ شوبز دنیا، سماجی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گیا۔ علی ظفر نے اس کے بعد لاہور کی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان سے ان کی ساکھ، پیشہ ورانہ مقام اور نجی زندگی کو شدید نقصان پہنچا ہے، اس لیے انہوں نے ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔
اس مقدمے کی سماعت غیر معمولی طور پر طویل رہی۔ آٹھ برس کے دوران اس کیس میں نو جج تبدیل ہوئے، دو سو تراسی پیشیاں ہوئیں اور بیس گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ مقدمے کی طوالت اور اس سے جڑی عوامی دلچسپی نے اسے ملک کے نمایاں قانونی تنازعات میں شامل رکھا۔ ہر پیشی کے ساتھ یہ مقدمہ نہ صرف دو معروف فنکاروں کے درمیان قانونی جنگ کے طور پر دیکھا جاتا رہا بلکہ اسے شہرت، ساکھ، الزامات اور ان کے ثبوت کے قانونی معیار کے تناظر میں بھی زیرِ بحث لایا جاتا رہا۔
تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ 2018 کی متعلقہ تحریر اور انٹرویو میں لگائے گئے الزامات سچ ثابت نہیں کیے جا سکے اور نہ ہی یہ ثابت ہوا کہ وہ عوامی بھلائی کے تقاضے کے تحت کیے گئے تھے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے انہیں قابلِ مواخذہ ہتکِ عزت قرار دیا۔ دوسرے لفظوں میں عدالت نے اس نکتے کو تسلیم کیا کہ الزام لگایا گیا، وہ پھیلایا بھی گیا، لیکن مقدمے کے دوران اسے قانونی معیار کے مطابق درست ثابت نہیں کیا جا سکا۔
عدالت نے اپنے فیصلے کے اگلے حصے میں یہ بھی لکھا کہ چونکہ ڈگری جاری ہو چکی ہے، اس لیے مقدمہ اب عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق مقررہ رقم کی ادائیگی کے لیے 4 مئی 2026 کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ اب صرف فیصلے کے اعلان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس پر عمل درآمد کا مرحلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے کا اہم موڑ ہے جو برسوں تک قانونی، سماجی اور فنی حلقوں میں موضوعِ بحث رہا۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ آیا میشا شفیع اس فیصلے کو اگلی عدالت میں چیلنج کرتی ہیں یا نہیں۔ تاہم فی الحال سیشن عدالت کے تحریری فیصلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ علی ظفر کے حق میں ہتکِ عزت کا دعویٰ جزوی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور میشا شفیع کو پچاس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔
میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ سیشن کورٹ کے فیصلے کی تصدیق شدہ نقل حاصل کر کے اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد اسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیشن کورٹ نے علی ظفر کے ہتکِ عزت کے دعوے میں میشا شفیع کے خلاف پچاس لاکھ روپے ہرجانے کا فیصلہ سنایا ہے، تاہم فیصلے کے قانونی نکات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اگلا لائحۂ عمل اختیار کیا جائے گا۔
