Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی جاسوسی اور دشمن کی مدد پر سزائے موت اور اثاثوں کی ضبطی کی وارننگ

عدالتی ترجمان کے مطابق یہ قانون گزشتہ سال منظور کیا گیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی عدلیہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ قانون   میں حالیہ ترمیم کے بعد جاسوسی یا ’دشمن ریاستوں کے ساتھ تعاون کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو سزائے موت اور تمام اثاثوں کی ضبطی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایسی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا جو دشمن کو ہدف کے تعین میں مدد دے سکتی ہوں، انہیں بھی انٹیلیجنس تعاون کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے، حکومت مخالف مواد آن لائن شیئر کرنے یا ’دشمن کے ساتھ تعاون‘ کے الزامات ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد یہ تنازع پورے خطے میں پھیل گیا، ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی اور عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔
عدالتی ترجمان کے مطابق یہ قانون گزشتہ سال منظور کیا گیا تھا اور اس کا اطلاق ان آپریشنل، انٹیلیجنس اور بعض میڈیا سرگرمیوں پر ہوتا ہے جنہیں دشمن حکومتوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، کی مدد کے مترادف سمجھا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غلط معلومات کے ذریعے خوف پھیلانے والے افراد کو بھی قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ جنگ کے دوران سزاؤں میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں تقریباً 200 فردِ جرم عائد کی جا چکی ہیں اور حکام سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ملزمان کی نشاندہی اور ان سے منسلک اثاثوں کی ضبطی پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

شیئر: