Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہزاروں امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ پہنچنا شروع، امریکہ ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے؟

دو امریکی اہل کاروں نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے پیر کے روز بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکی فوج کے ایلیٹ 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی مشرقِ وسطیٰ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔‘ 
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس دوران ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
روئٹرز نے سب سے پہلے 18 مارچ کو یہ رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے تحت امریکہ ایران میں اپنی فوج تعینات کرنے کے آپشن پر بھی عمل کر سکتا ہے۔
یہ چھاتہ بردار فوجی امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی فوجی تنصیب فورٹ بریگ میں تعینات تھے جو ان ہزاروں اضافی سیلرز، میرینز اور سپیشل آپریشنز فورسز میں اضافہ کریں گے جنہیں پہلے ہی خطے میں بھیجا جا چکا ہے۔ گذشتہ ہفتے کے آخر میں قریباً 2500 میرینز مشرقِ وسطیٰ پہنچے تھے۔
حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ فوجیوں کو خاص طور پر کہاں تعینات کیا جا رہا ہے۔
اضافی فوجی دستوں میں 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ہیڈکوارٹرز کے اہل کار، کچھ لاجسٹکس اور دیگر معاون یونٹس، اور ایک بریگیڈ کومبیٹ ٹیم شامل ہے۔
ایران میں فی الحال فوج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم ایک ذریعے کے مطابق یہ اقدامات خطے میں مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں کے لیے صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔
ٹرمپ کے سامنے موجود راستے
یہ فوجی ایران کے خلاف جنگ میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جن میں خارگ جزیرے پر قبضے کی کوشش بھی شامل ہے، جو ایران کی 90 فیصد تیل برآمدات کا مرکز ہے۔ 
رواں ماہ کے آغاز میں روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اس جزیرے پر قبضے کے لیے آپریشن کرنے پر بات چیت ہوئی ہے۔ 
یہ اقدام انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اس جزیرے تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔
روئٹرز پہلے بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ انتظامیہ نے ایران میں زمینی افواج بھیجنے پر غور کیا ہے تاکہ انتہائی افزودہ یورینیم کو حاصل کیا جا سکے۔
 تاہم اس آپشن کو استعمال کرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی فوج کو ایران کے اندر زیادہ گہرائی تک اور ممکنہ طور پر طویل عرصے تک رہنا پڑے، تاکہ زیرِ زمین گہرائی میں موجود مواد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

شیئر: