ایران کے پارلیمانی سپیکر سے مذاکرات کر رہے ہیں: ٹرمپ، محمد باقر قالیباف کی تردید
ایران کے پارلیمانی سپیکر سے مذاکرات کر رہے ہیں: ٹرمپ، محمد باقر قالیباف کی تردید
منگل 31 مارچ 2026 13:17
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے علاوہ ممکنہ معاہدے کا اشارہ بھی دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے نیویارک پوسٹ کو ایک انٹرویو کے دوران کیے گئے اس دعوے کی پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں تردید کی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے بھی یہی مؤقف سامنے آیا ہے۔
محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکہ ’اپنی خواہش کو خبر بنا رہا ہے جبکہ ساتھ ہی ہمارے ملک کو دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔‘
پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر کا نام اس سے قبل واشنگٹن کے ساتھ مذاکراتی شراکت دار کے طور پر سامنے آیا تھا لیکن انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ کوئی نئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم یہ تصدیق کی کہ ثالثوں نے ایران کو تجاویز کا ایک سیٹ بھجوایا ہے۔
انہوں نے جون 2025 اور فروری 2026 کی بالواسطہ بات چیت جو کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے ہوئی تھی، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک سال سے بھی کم عرصے کے دوران سفارت کاری کے ذریعے ہونے والی دھوکہ دہی کو نہیں بھولے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو دھمکی دی تھی کہ اگر تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ’جلد ہی‘ نہ ہوا تو ایران کے توانائی کے وسائل اور دوسرے اہم انفراسٹرکچرز بشمول ڈی سیلینیشن کے پلانٹس کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا جائے گا۔
محمد باقر قالیباف پاسداران انقلاب کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں (فوٹو: اے پی)
ہم ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
پارلیمانی سپیکر بننے سے بہت پہلے محمد باقر قالیباف تقریباً دو دہائیوں تک خود کو ایک ایسی سخت گیر شخصیت کے طور پر پیش کرتے رہے جس سے مغرب ملک کے اندر کاروبار کر سکتا ہے۔
انہوں نے لندن کے اخبار دی ٹائمز سے 2008 میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ مغرب ایران کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرے اور اس پر بھروسہ کرے اور مجھے یقین ہے کہ ایران کے اندر طرزعمل موجود ہے جو مسائل کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔‘
فروری کے اواخر میں ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔
امریکی صدر ایران کی حکومت پر جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہچنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ سفارتی سطح پر پیش رفت ہو رہی ہے۔
تاہم ایسے سوالات کا جواب آنا ابھی باقی ہے کہ ایران کی اس مذہبی حکومت میں محمد باقر قالیباف کیا اختیار رکھتے ہیں جو کہ 28 فروری کو فضائی حملے کے بعد اس وقت بکھر گئی تھی جب ایران کے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی لڑائی پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر ہیں اور وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے موقع پر بار بار محمد باقر قالیباف کی حمایت کر چکے ہیں۔
تاہم پھر بھی ایران کی مذہبی حکومت کے اندر اب ممکنہ طور پر بہت سے مراکز اسلامی جمہوریہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مجتبیٰ خامنہ کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے کیونکہ مبینہ طور پر زخمی ہونے کے بعد ابھی تک وہ سامنے نہیں آئے ہیں۔
محمد باقر قالیباف کو ایران کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے بھی جوڑا جاتا ہے جبکہ ان کو عہدہ رکھنے کے وقت بدعنوانی کے الزامات کا سامنا بھی رہا ہے۔
صدر ٹرمپ شاید وینزویلا کے قائمقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے ایرانی ورژن کی تلاش میں ہیں جنہوں نے جنوری میں وینزویلا کے اس وقت کے لیڈر نکولس مادورو کو امریکی آپریشن کے ذریعے ہٹائے جانے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔