Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، کیا پاکستانی گیس صارفین بھی متاثر ہوں گے؟

گیس کمپنیوں کے ترجمان کا کہنا ہے اس وقت تک گیس کی لوڈشیڈنگ کا کوئی نیا شیڈیول جاری نہیں کیا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقی وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتِ حال کے پیش نظر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ گیس کے شعبے پر نہ صرف دبائو بڑھا ہے بلکہ گیس کی قلت پیدا ہونے کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان اپنی گیس کی تقریباً 30 سے 35 فیصد ضرورت درآمد شدہ ذرائع سے پوری کرتا ہے، جبکہ باقی 65 سے 70 فیصد ضرورت مقامی گیس سے پوری کی جاتی ہے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس پانچ فیصد سے بھی کم درآمد شدہ گیس دستیاب ہے اور خدشہ ہے کہ اپریل میں یہ سٹاک مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت قطر سے گیس درآمد کرتا رہا ہے، اور ہر ماہ تقریباً نو کارگوز ملک پہنچتے تھے۔
تاہم جنگ اور  کشیدگی کے باعث قطر نے اپنی گیس کی فراہمی معطل کر دی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونے لگے ہیں۔
اگرچہ گرمیوں میں پاکستان کو ماہانہ نو ایل این جی کارگوز جیسی بڑی مقدار درکار نہیں ہوتی، تاہم مجموعی طلب عام طور پر نصف سطح تک محدود رہتی ہے۔
حکومت نے موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر گرمیوں میں ممکنہ گیس قلت سے نمٹنے کے لیے ہائبرڈ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پالیسی کے تحت اگلے ماہ سے گیس کی تقسیم کا ہائبرڈ مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت گیس کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت زیادہ دباؤ بجلی پیدا کرنے والے شعبے پر ڈالا جائے گا، جبکہ سی این جی سٹیشنز اور بعض صنعتی یونٹس کو مکمل یا جزوی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں گھریلو صارفین کو بھی مختلف اوقات میں گیس کے کم پریشر یا محدود بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

گھریلو صارفین کو اضافی لوڈشیڈنگ کا سامنا نہیں

پاکستان میں عموماً موسم گرما میں بھی رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک گیس کی فراہمی معطل رہتی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں گیس کی اضافی لوڈشیڈنگ کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
اُردو نیوز نے اس حوالے سے جب سوئی سدرن اور سوئی نادرن کمپنیوں کے ترجمان سے رابطہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت تک گیس کی لوڈشیڈنگ کا کوئی نیا شیڈیول جاری نہیں کیا گیا اور خاص طور پر گھریلو سیکٹر متاثر نہیں ہو رہا۔ تاہم، آنے والے دنوں میں صورتِ حال کے مطابق صارفین کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان عمان کے ذریعے ایران سے ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ہم نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے گیس سیکٹر کے ماہر اور سابق ممبر اوگرا محمد عارف سے بات کی۔ ان کے مطابق گیس کی موجودہ لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجہ قلت نہیں بلکہ انتظامی خامیاں اور پالیسی سطح کی کمزوریاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’گیس کی بندش دراصل ایک انتظامی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت مخصوص اوقات میں سپلائی روکی جاتی ہے تاکہ یو ایف جی کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
ان کا قطر سے گیس کی درآمد متاثر ہونے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’پاکستان پر اس وقت اس کے فوری اثرات مرتب نہیں پڑ رہے، کیونکہ ملکی طلب میں کمی آ چکی ہے۔
محمد عارف کا کہنا تھا کہ ’بڑھتے ہوئے ٹیرف اور سبسڈی کے نظام میں تبدیلی کے باعث صارفین نے گیس کا استعمال محدود کر دیا ہے، جس کی وجہ سے فی الحال زیادہ مقدار میں درآمدی گیس کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں اس وقت ایل پی جی بھی گھریلو اور کچھ کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو ہم تفتان بارڈر کے ذریعے امپورٹ کرتے ہیں۔ اگر ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی تو یہ صورتِ حال سنگین رُخ اختیار کر سکتی ہے۔
لاہور میں مقیم ماہر توانائی علی خضر کے مطابق پاکستان کو فی الحال پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری ہے، تاہم قطر کی پیداوار متاثر رہنے اور درآمدی گیس کی ضروریات پوری نہ ہونے کی صورت میں گیس اور بجلی کے شعبے دباؤ میں آ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اپریل میں کم از کم تین سے چار ایل این جی کارگوز درکار ہوں گے۔ اگر یہ دستیاب نہ ہوئے تو پنجاب میں ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس بند کرنا پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گرمیوں کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس صورتِ حال کے باعث گھریلو صارفین کو فراہم کی جانے والی گیس کی سپلائی بھی متاثر ہوگی اور اس میں کمی بھی آ سکتی ہے۔‘
انہوں نے ایل پی جی کے حوالے سے خبردار کیا کہ ’پاکستان عمان کے ذریعے ایران سے ایل پی جی درآمد کرتا ہے، اور اس سپلائی چین میں بھی اگر کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی تو ایل پی جی کی قیمتیں، جو پہلے ہی بڑھ چکی ہیں، مزید اوپر جا سکتی ہیں۔

شیئر: