جازان: غروبِ آفتاب کے بعد پھیلنے والی مخصوص مہک، سمندر میں پیرٹ فِش کی آمد کا اشارہ
جازان کا علاقہ اپنی غیر معمولی قدرتی اور ساحلی امتیازی پہلوؤں کی وجہ سے خوب شہرت رکھتا ہے اور مملکت میں حیاتیاتی تنوع اور ماہی پروری کے لیے اہم ترین مقامات سے ایک ہے۔
اس کے پانیوں میں مچھلیوں اور مونگے کی چٹانوں کی بہتات ہے جو پائیدار آبی ایکوسسٹمز کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوتی ہے جس سے ماہی گیری سے تعلق رکھنے والی مقامی کمیونٹیوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
بحیرۂ احمر اس آبی دولت کا بنیادی ذریعہ ہے جو مچھلیوں کی افزائش کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ احمر کی وجہ سے آس پاس رہنے والوں اور یہاں آنے والوں کے لیے بھی بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاحتی مواقع پیدا کر رہا ہے۔
ان آبی خزانوں میں ایک پیرٹ فش بھی ہے۔ (پیرٹ فِش وہ مچھلی ہے جس کا منہ طوطے کی چونچ کی طرح کا ہوتا ہے۔ یہ مچھلی حفاظت کے لیے اپنے اردگرد حصار بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے)۔
پیرٹ فِش منطقۂ حارہ میں پائی جانے والی مچھلیوں کی انواع میں انتہائی منفرد اور خوش رنگ مچھلی ہے۔ دنیا میں پیرٹ فِش کی تقریباً 90 سے 95 انواع ہیں جن میں سے 17 بحیرۂ احمر میں پائی جاتی ہیں۔
جزائرِ فرسان کے الحسیس ساحل پر، پیرٹ فِش مقامی لوگوں کی زبان میں ’حرید‘ کہلاتی ہے اور ہر سال یہاں نمودار ہوتی ہے۔

پیرٹ فِش منظم گروپس کی صورت میں رات کو نقل مکانی کرتی ہیں۔ ہر گروپ میں 200 سے 500 تک مچھلیاں ہوتی ہے۔ ان مچھلیوں کی مہاجرت کا موسم مارچ کے آخر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل کے آخر تک جاری رہتا ہے اور مقامی ماہی گیر ڈیڑھ کلو میٹر طویل پانی کے کٹاؤ میں ماہی گیری کرتے ہیں۔
مقامی روایت ہے کہ وہ غروبِ آفتاب کے بعد پانی میں ایک مخصوص مہک سے ان مچھلیوں کی آمد کی پیش گوئی کر دیتے ہیں۔ پیرٹ فش پکڑنے کا یہ سالانہ ایونٹ ان کے لیے خوشی کا ایک تہوار بن جاتا ہے جس سے نہ صرف عوام اور ماحول کے درمیان گہرے تعلق کا اظہار ہوتا ہے بلکہ انھیں فطرت کا براہِ راست منفرد تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔

پیرٹ فش کے سیزن کی تاریخی، ثقافتی اور سیاحتی اہمیت کے پیشِ نظر، پہلے فرسان حرید فیسٹیول کا آغاز 1426 ہجری میں کیا گیا تھا۔
تب سے یہ فیسٹیول رفتہ رفتہ مقامی بلدیہ کے تعاون سے پھلتا پھولتا اور آگے بڑھتا ہوا اب ایک بڑی سالانہ تقریب کی شکل اختیار کر چکا ہے اور جزائرِ فرسان پر متجسس سیاحوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس ایونٹ کے مخصوص قدرتی اور ثقافتی پہلوؤں کے بارے میں مزید جان سکیں۔