راولپنڈی: روات میں چلتی وین میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، ویڈیوز بنا کر ملزمان فرار
منگل 31 مارچ 2026 16:31
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
واقعہ راولپنڈی کے تھانہ روات کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے چلتی گاڑی میں شادی شدہ خاتون کے ساتھ زیادتی کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عید کے پرمسرت موقع پر اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے دلوانے کے ارادے سے 19 سالہ کنزہ عمر (فرضی نام) گھر سے روات بازار کی جانب نکلیں لیکن یہ خوشیوں کا سفر چند لمحوں میں ایک خوفناک واقعے میں تبدیل ہو گیا۔
وہ روات جی ٹی روڈ پر پہنچ کر ایک ٹویوٹا ہائی ایس میں سوار ہو کر بازار کی جانب روانہ ہوئیں، لیکن گاڑی میں سوار افراد کے ارادے اس خوشگوار سفر سے کہیں زیادہ بھیانک تھے۔
گاڑی کو مخالف سمت موڑ دیا گیا اور چند لمحوں میں دو بچوں کی ماں کی خوشیوں بھری امیدیں خوف اور درندگی کی لپیٹ میں آ گئیں، جہاں وہ بے بسی کے عالم میں ظلم کا نشانہ بن گئیں۔
یہ واقعہ راولپنڈی کے تھانہ روات کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے چلتی گاڑی میں شادی شدہ خاتون کے ساتھ زیادتی کی اور اس کی ویڈیوز بنائیں، پھر اسے سڑک پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
راوالپنڈی پولیس نے متاثرہ خاتون کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
اردو نیوز کو موصول ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق، متاثرہ خاتون نے ماہ رمضان سے قبل اپنے بچوں کے لیے کپڑے خریدنے کے لیے روات بازار جانے کا ارادہ کیا۔
کوٹ سیداں روڈ، وارڈ نمبر 16، گجر خان سے وہ کیری ڈبے میں بیٹھ کر چیک ہیلی موڑ، جی ٹی روڈ پر پہنچی۔ وہاں سے نوجوان شادی شدہ خاتون نے ایک ٹویوٹا ہائی ایس میں بیٹھ کر روات بازار جانے کے لیے سفر کا آغاز کیا، لیکن یہ سفر اُس کے لیے انتہائی خوفناک ثابت ہوا۔
ملزمان نے روات بازار کی بجائے گاڑی کو مخالف سمت چک بیلی موڑ کی طرف موڑ دیا۔ جب متاثرہ خاتون نے گاڑی کو مخالف سمت جاتے دیکھا تو شور مچایا، جس پر کنڈکٹر نے اسے قابو کر لیا۔
ایف آئی آر میں متاثرہ خاتون کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے چک بیلی موڑ پر ایک اور شخص کو گاڑی میں بٹھایا، جس کا نام عقیل بتایا جا رہا ہے، اور ڈرائیور کو وہ سلطان کے نام سے پکارتے رہے۔ پھر گاڑی بگا شیخاں کی طرف روانہ کی گئی۔
ابتداء میں ملزمان نے خاتون کو بگا شیخاں ایک گھر لے جانے کی کوشش کی، لیکن ناکامی کے بعد دوبارہ گاڑی میں بٹھایا اور خاتون کے منہ پر کپڑا رکھ کر گاؤں کی روڈ پر گھماتے رہے۔ اس دوران گاڑی کے اندر چاروں ملزمان نے متاثرہ خاتون کے ساتھ باری باری زیادتی کی اور تشدد بھی کیا۔
واقعے کے بعد شام چار بج کر 30 منٹ پر متاثرہ خاتون کو دوبارہ چک بیلی موڑ پر گاڑی سے اتار دیا گیا۔ متاثرہ خاتون کمزور حالت میں گھر پہنچی اور اپنے شوہر کو تمام واقعے سے آگاہ کیا۔
خاتون کے شوہر نے واقعہ سن کر شدید صدمے سے دوچار ہوئے ، تاہم ابتدا میں اس نے متاثرہ خاتون کو خاموش رہنے کا کہا۔ بعد ازاں متاثرہ خاتون نے اپنی والدہ کو سارا واقعہ بتایا، جس پر پولیس سے رجوع کیا گیا اور 29 مارچ کو ایف آئی آر کا اندراج ہوا۔
پولیس کو بتایا گیا کہ ملزمان نے زیادتی کے دوران متاثرہ خاتون کی ویڈیوز بھی بنائیں اور دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو ویڈیوز وائرل کر دی جائیں گی۔ کئی دنوں بعد متاثرہ خاتون نے والدہ کو واقعہ بتایا، جس کے بعد پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کروایا گیا۔
متاثرہ خاندان نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ ملزمان نے بعد ازاں فون کال کے ذریعے متاثرہ خاتون کو دھمکیاں دیں۔ پولیس کے مطابق اس وقت متاثرہ خاتون کی طبیعت بہت خراب ہے اور اس کا علاج معالجہ بھی نہیں ہو رہا۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے راولپنڈی پولیس کے ترجمان محمد عامر عباس سے رابطہ کیا، جن کا کہنا تھا کہ ابھی تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ تاہم، مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا میڈیکل کرایا جا رہا ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔