پاکستان میں ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ، وجہ جنگ یا کچھ اور؟
پاکستان میں ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ، وجہ جنگ یا کچھ اور؟
منگل 31 مارچ 2026 10:57
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دواؤں کی قیمتوں میں منظم انداز میں اضافے کے دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان میں ادویات کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران غیرمعمولی اضافے کی خبروں کے بعد ملک کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے قیمتوں میں غیرمعمولی اور منظم اضافے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ تاہم مارکیٹ میں کئی طرح کی ادویات جن میں ذیابیطس، دل کے امراض، انسولین، وٹامنز اور بچوں کی غذائی سپلیمنٹس شامل ہیں، صارفین ان کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت کر رہے ہیں۔
محمد ارسلان کا تعلق لاہور سے ہے، انہوں نے بتایا کہ ’میرے بھائی کی مستقل دوائی جس کا جینیرک نام ریسپیریڈون ہے اور جس کی قیمت 500 روپے تھی اور ہفتے میں ایک بوتل استعمال ہوتی تھی۔ لیکن کچھ عرصے مارکیٹ سے غائب رہنے کے بعد اب یہ 800 روپے کی مل رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بلیک یا کسی اور وجہ سے فارمیسی والے مہنگی دے رہے ہیں۔ پوچھنے پر وہ بتاتے ہیں کہ کمپنی نے مہنگی کر دی ہے۔ اب اس دوائی کا استعمال ہمارے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘
ایسی ہی شکایت نورین علی کی بھی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ’میری والدہ شوگر کی مریض ہیں، ایک انجیکشن جو پہلے ہمیں 2200 روپے کا ملتا تھا کچھ عرصہ وہ مارکیٹ سے غائب رہا اور اس کے بعد دوبارہ فروخت کے لیے آیا ہے تو اس کی قیمت 4720 روپے ہو گئی ہے۔ یہ 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہے۔ یہ بہت پریشان کن ہے۔ یہ جان بچانے والی ادویات ہیں ان کی قیمت ایسے نہیں بڑھنی چاہییں۔‘
پاکستان ڈرگ لائر فورم (پی ڈی ایل ایف) کے صدر نور محمد ماہر ان اضافوں کو ’ظالمانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک منظم طریقے سے دوائیوں کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ اور ایک مخصوص لابی اس وقت مارکیٹ پر راج کر رہی ہے۔
’تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس صورت حال کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں ہے اور مان بھی نہیں رہے کہ ایسے ہو رہا ہے۔ آپ کسی بھی فارمیسی میں چلے جائیں اور پوچھیں کہ پچھلے دو برسوں میں دوائیوں کی قیمتیں کیسے مرحلہ وار بڑھائی گئی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ انسولین پین (انجیکشن) کی قیمت 2200 روپے سے بڑھ کر 4720 روپے ہو گئی، اس میں 100 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے۔ لوموٹل ٹیبلیٹ (اسہال) 1100 سے 2000 روپے (82 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح مائرن-پی فورٹے (تپ دق) 2200 سے 3700 روپے (68 فیصد اضافہ) اور ہیومولین 70/30 انسولین 1507 سے 1613 روپے کی ہو گئی ہیں۔ دیگر دوائیں جیسے گیوسکون سیرپ، زائرتیک، ایکسٹور اور بچوں کی غذائی پاؤڈرز (پیڈیاشور، انشور) میں بھی 20 سے 82 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، اور کس طرح کا ثبوت چاہیے۔‘
تاہم دوسری طرف پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دواؤں کی قیمتوں میں منظم انداز میں اضافے کے دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
نور محمد ماہر کے مطابق انسولین پین (انجیکشن) کی قیمت 2200 روپے سے بڑھ کر 4720 روپے ہو گئی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
اتھارٹی کا موقف ہے کہ ان اعداد و شمار کو درست طریقے سے پیش نہیں کیا جا رہا۔ ڈریپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ذیابیطس سمیت کسی بھی دوا کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا ہے۔‘
اسی طرح فارما سوٹیکل انڈسٹری کے کرتا دھرتا بھی تقریباً یہی موقف اپنا رہے ہیں۔ انڈسٹری سے وابستہ ڈاکٹر طاہر خان کہتے ہیں کہ ’ایندھن کی قیمتیں جتنی بڑھی ہیں اس وقت ادویات کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہونا چاہیے ورنہ دوائیاں مارکیٹ میں لانا مشکل ہو جائے گا۔ ابھی تک جنگ کے اثرات بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہوں گے۔ میرا نہیں خیال کہ منظم طریقے سے کچھ ہو رہا ہے۔ لیکن اگر تجارت متاثر رہی، ایندھن اور مہنگا ہوا تو اگلے کچھ مہینے مشکل ہو جائیں گے۔‘
ایک طرف حکومت ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی تردید کر رہی ہے تو دوسری طرف مارکیٹ میں صورت حال مختلف ہے۔ تو پھر اصل میں ہوا کیا ہے؟ اس سب سے آگاہ ایک اعلٰی سرکاری افسر نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’تکنیکی طور پر سب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ دوائیوں کی قیمتیں بڑھی ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہو گا۔ سرکار نے ابھی تک قیمتیں نہیں بڑھائیں یہ بھی درست ہے۔‘
’اس صورت حال کا تانا بانا فروری 2024 سے ملتا ہے جب اس وقت کی نگران وفاقی حکومت نے ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک ایس آر او جاری کیا جس میں ڈریپ کی طرف سے قیمتوں میں اضافے کا جو میکانزم پہلے طے ہے اس کو تھوڑا سا تبدیل کیا گیا۔ جن کمپنیوں نے اپنی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں دے رکھی ہوں اور اس پر ڈریپ کا فیصلہ اگر ایک مہینے کے اندر اندر نہیں آتا تو پھر وہ کمپنیاں انہی درخواستوں کے اندر درج کی ہوئی نئی قیمتوں کو خود بخود بڑھا سکتی ہیں۔ اور یہ قیمتیں دو برسوں میں آہستہ آہستہ بڑھی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ یک دم راتوں رات کوئی بڑا اضافہ ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ اصل صورت حال ہے جس کی وجہ سے یہ ابہام ہوا۔ ڈریپ نے قیمتیں بڑھائی نہیں لیکن گذشتہ دو برسوں میں قیمتیں ضرور بڑھی ہیں۔‘
ڈاکٹر طاہر خان کہتے ہیں کہ ’ایندھن کی قیمتیں جتنی بڑھی ہیں اس وقت ادویات کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہونا چاہیے (فوٹو: روئٹرز)
دوسری طرف نور محمد ماہر کہتے ہیں کہ ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 اور فروری 2024 کے نوٹیفکیشن نے تقریباً 90 ہزار برانڈز کو ڈی کنٹرول کر دیا۔
ان کے دعوے کے مطابق پانچ ہزار سے زائد برانڈز کی قیمتوں میں 80 فیصد سے 247 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ فارما سیوٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور گلف کرائسس نے خام مال کی درآمد، فرائیٹ چارجز اور پیٹرول/ڈیزل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ کیا ہے، جس سے فارما انڈسٹری پر دباؤ بڑھا ہے۔
پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی اس حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری ادویات کی قیمتیں مستحکم ہیں اور سپلائی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔