سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات کا ایک واضح نتیجہ سامنے آیا ہے اور وہ ہے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ٹھوس اور اہم مقام کے طور پر ابھرنا جبکہ فریقین نے اس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولت کاری پر اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔
چار وزرائے خارجہ کا یہ اکٹھ ایک ایسے وقت میں باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جب تنازع ابتدائی حدود سے کافی آگے بڑھتا ہوا خلیج سے بحیرہ احمر تک پھیل چکا ہے جبکہ تیزی سے توانائی سے متعلق عالمی تجارت کو متاثر کر رہا ہے۔
مذکورہ نتیجے کی بنیاد براہ راست 18 مارچ کو ریاض میں ہونے والی مشاورت پر ہے جہاں ایک درجن سے زائد عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے توانائی سے متعلق سروسز، ہوائی اڈوں اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کے علاوہ سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک متفقہ مؤقف پیش کیا اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائے جانے کا مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں
-
ایران تنازعے کے فوری خاتمے کے لیے’اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے‘Node ID: 902380
اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس بھی اسی امر کو تقویت دیتا ہے اور ایک مربوط سفارتی عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں مسلسل بات چیت کو فعال چینلز کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
اسلام آباد کے اجلاس کے نتائج کی سب سے اہم بات اس امر کی تصدیق ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں پاکستان کے اس سہولتی عمل میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔
ایک ایسے تنازعے جس میں عدم اعتماد حاؤی رہا ہے کے لیے باہمی طور پر قبول شدہ مقام کا سامنے آنا حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔
اس سے ایک ایسا طریقہ کار بنتا ہے جس کے ذریعے تجاویز بشمول پچھلے فریم ورکس کے، جن میں کشیدگی میں کمی، میزائلوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا جانا اور باہمی کمٹمنٹس کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ اس عمل کو علاقائی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے اور چین اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کی حمایت بھی رکھتا ہے جبکہ ایک اہم موڑ پر ساکھ میں بہتری کا بھی باعث ہے۔
پاکستان کی جانب سے اعتماد کے اس درجے تک پہنچنے کی جڑیں پائیدار اور متوازن سفارت کاری میں ہیں۔
اسلام آباد نے بیک وقت واشنگٹن، تہران، ریاض اور بیجنگ کے ساتھ مسلسل رابطہ کاری برقرار رکھی ہے جس کی بدولت تجاویز کی ترسیل، ٹائم لائنز کے انتظام اور مواصلات کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں ممکن ہوا جب براہ راست رابطہ محدود ہے۔

پاکستان کے اس عمل کو مربوط طور پر قیادت کی جانب سے تقویت ملی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح پر رابطوں کے لیے سیاسی سمت فراہم کی جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سکیورٹی اداروں میں سٹریٹیجک استحکام کو یقینی بنایا ہے۔
اس اتفاق نے پاکستان کو ایک انتہائی غیرمستحکم ماحول میں ایک قابل اعتماد سہولت کے طور پر سامنے آنے کے قابل بنایا ہے۔
سعودی عرب کا کرار وسیع تر سفارتی ماحول کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ولی عہد شہزاہ محمد بن سلمان اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی قیادت میں مملکت نے براہ راست سکیورٹی دباؤ کے باوجود تحمل کا مظاہر کیا، جس میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حلوں کے علاوہ سمندری راستوں کے لیے وسیع تر خطرات بھی شامل ہیں۔
تاہم اس کے باوجود سعودی عرب نے استحکام اور سفارتی حل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے براہ راست کشیدگی سے گریز کیا ہے۔
یہ اپروچ مملکت کے حالیہ تزویراتی طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہے، اس سے قبل سعودی عرب بیجنگ معاہدے کے ذریعے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لایا، جنیوا میں عمان کی قیادت میں سفارتی کوششوں کی حمایت کی اور کشیدگی سے قبل آخری وقت رابطہ کاری جاری رکھی۔
سعودی عرب اب بھی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پل کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بعض مغربی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والے یہ دعوے کہ سعودی قیادت مزید فوجی کشیدگی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، حقیقت میں بے بنیاد ہیں۔
مملکت کے طرزعمل سے مسلسل تحمل کی عکاسی ہوتی ہے نہ کہ کشیدگی بڑھانے کی۔
اسی طرح سعودی عرب اور شراکت داروں کے درمیان تقسیم دکھانے کے لیے ہونے والی کوششوں کے معاملے پر توجہ دیا جانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
18 مارچ کو ریاض میں ہونے والی مشاورت کے دوران ایک واضح اور متحدہ مؤقف پیش کیا، جس میں انفراسٹرکچرز پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی جبکہ اس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ریاستوں کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کے عزم کا اعادہ بھی شامل ہے۔












