ایک مسلط شدہ جنگ جس کا حل ریاض اور اسلام آباد کر رہے ہیں:ڈاکٹر علی عواض العسیری کا تجزیہ
ایک مسلط شدہ جنگ جس کا حل ریاض اور اسلام آباد کر رہے ہیں:ڈاکٹر علی عواض العسیری کا تجزیہ
بدھ 1 اپریل 2026 13:53
ڈاکٹر علی عواض العسیری، سابق سعودی سفیر
سعودی عرب کی جانب سے وزیر خارجہ شہزاد فیصل بن فرحان نے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی (فوٹو: وزارت خارجہ پاکستان)
سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات کا ایک واضح نتیجہ سامنے آیا ہے اور وہ ہے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ٹھوس اور اہم مقام کے طور پر ابھرنا جبکہ فریقین نے اس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولت کاری پر اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔
چار وزرائے خارجہ کا یہ اکٹھ ایک ایسے وقت میں باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جب تنازع ابتدائی حدود سے کافی آگے بڑھتا ہوا خلیج سے بحیرہ احمر تک پھیل چکا ہے جبکہ تیزی سے توانائی سے متعلق عالمی تجارت کو متاثر کر رہا ہے۔
مذکورہ نتیجے کی بنیاد براہ راست 18 مارچ کو ریاض میں ہونے والی مشاورت پر ہے جہاں ایک درجن سے زائد عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے توانائی سے متعلق سروسز، ہوائی اڈوں اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کے علاوہ سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک متفقہ مؤقف پیش کیا اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائے جانے کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس بھی اسی امر کو تقویت دیتا ہے اور ایک مربوط سفارتی عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں مسلسل بات چیت کو فعال چینلز کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
اسلام آباد کے اجلاس کے نتائج کی سب سے اہم بات اس امر کی تصدیق ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں پاکستان کے اس سہولتی عمل میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔
ایک ایسے تنازعے جس میں عدم اعتماد حاؤی رہا ہے کے لیے باہمی طور پر قبول شدہ مقام کا سامنے آنا حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔
اس سے ایک ایسا طریقہ کار بنتا ہے جس کے ذریعے تجاویز بشمول پچھلے فریم ورکس کے، جن میں کشیدگی میں کمی، میزائلوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا جانا اور باہمی کمٹمنٹس کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ اس عمل کو علاقائی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے اور چین اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کی حمایت بھی رکھتا ہے جبکہ ایک اہم موڑ پر ساکھ میں بہتری کا بھی باعث ہے۔
پاکستان کی جانب سے اعتماد کے اس درجے تک پہنچنے کی جڑیں پائیدار اور متوازن سفارت کاری میں ہیں۔
اسلام آباد نے بیک وقت واشنگٹن، تہران، ریاض اور بیجنگ کے ساتھ مسلسل رابطہ کاری برقرار رکھی ہے جس کی بدولت تجاویز کی ترسیل، ٹائم لائنز کے انتظام اور مواصلات کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں ممکن ہوا جب براہ راست رابطہ محدود ہے۔
18 مارچ کو ریاض میں ہونے والے اجلاس میں ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے اس عمل کو مربوط طور پر قیادت کی جانب سے تقویت ملی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح پر رابطوں کے لیے سیاسی سمت فراہم کی جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سکیورٹی اداروں میں سٹریٹیجک استحکام کو یقینی بنایا ہے۔
اس اتفاق نے پاکستان کو ایک انتہائی غیرمستحکم ماحول میں ایک قابل اعتماد سہولت کے طور پر سامنے آنے کے قابل بنایا ہے۔
سعودی عرب کا کرار وسیع تر سفارتی ماحول کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ولی عہد شہزاہ محمد بن سلمان اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی قیادت میں مملکت نے براہ راست سکیورٹی دباؤ کے باوجود تحمل کا مظاہر کیا، جس میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حلوں کے علاوہ سمندری راستوں کے لیے وسیع تر خطرات بھی شامل ہیں۔
تاہم اس کے باوجود سعودی عرب نے استحکام اور سفارتی حل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے براہ راست کشیدگی سے گریز کیا ہے۔
یہ اپروچ مملکت کے حالیہ تزویراتی طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہے، اس سے قبل سعودی عرب بیجنگ معاہدے کے ذریعے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لایا، جنیوا میں عمان کی قیادت میں سفارتی کوششوں کی حمایت کی اور کشیدگی سے قبل آخری وقت رابطہ کاری جاری رکھی۔
سعودی عرب اب بھی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پل کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بعض مغربی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والے یہ دعوے کہ سعودی قیادت مزید فوجی کشیدگی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، حقیقت میں بے بنیاد ہیں۔
مملکت کے طرزعمل سے مسلسل تحمل کی عکاسی ہوتی ہے نہ کہ کشیدگی بڑھانے کی۔
اسی طرح سعودی عرب اور شراکت داروں کے درمیان تقسیم دکھانے کے لیے ہونے والی کوششوں کے معاملے پر توجہ دیا جانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
18 مارچ کو ریاض میں ہونے والی مشاورت کے دوران ایک واضح اور متحدہ مؤقف پیش کیا، جس میں انفراسٹرکچرز پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی جبکہ اس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ریاستوں کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کے عزم کا اعادہ بھی شامل ہے۔
خطے کی صورت حال کے تناظر میں اسلام آباد میں ہونے والا مشاورتی اجلاس کافی نتیجہ خیز رہا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
اس وقت موجودہ بحران کو بڑھانے والے معاملات کا جائزہ لیا جانا چاہیے تیل کے ذرائع، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں سے خلیجی ممالک براہ راست متاثر ہوئے ہیں حالانکہ انہوں نے یہ تنازع شروع نہیں کیا۔
آبنائے ہرمز کے ارد گرد جہاز رانی کے راستوں میں خلل نے عالمی توانائی کے بہاؤ کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ بنیادوں پر لاکھوں بیرل تیل کا بہاؤ متاثر ہونے کے خدشات ہیں اور اس کی وجہ سے نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پراکسی ڈائنامکس کو دوبارہ متحرک کرنے سے پیچیدگی بڑھ جاتی ہے۔ حوثیوں جیسے گروپوں کا بڑھتا ہوا کردار، اسرائیل کی جانب بڑھتے میزائل حملے اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں پر دباؤ بالواسطہ طور پر کشیدگی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
یمن میں استحکام کے لیے سعودی عرب کی پیشگی سرمایہ کاری کے پیش نظر یہ خاص طور پر اہم پہلو ہے، بشمول جنگ بندی کے انتظامات اور ترقی کے لیے تعاون کے، تاہم پراکسی کی سرگرمیوں کی طرف واپسی ان کوششوں کو کمزور کرتی ہے جبکہ علاقائی خطرات کو بھی مزید بڑھاتی ہے۔
سعودی عرب کا ردعمل نپا تلا اور ٹھوس ہے۔ہے۔ مملکت نے اپنی دفاع کو تقویت دی ہے، بشمول فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کو بڑھانے کے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا ہے جو تنازع کو بڑھا سکتے ہیں۔
یہ ایک واضح تزویراتی حساب کتاب کی عکاسی کرتا ہے جو طویل مدتی استحکام اور خصوصاً 2030 ویژن کے تحت معاشی استحکام معاشی تبدیلی کی طرف بڑھنے کے ضمن میں ہے جس کا انحصار ڈیٹرینس کو برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی نہ بڑھنے پر ہے۔
اسی طرح تنازع میں توسیع بیرونی مداخلت کے حوالے سے بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
خطے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی، بشمول بحری تعیناتی اور فضائی دفاعی نظام سے تنازع کو طول ملنے کے بھی خدشات ہیں۔
خلیجی ریاستیں جو اس جنگ کا براہ راست نشانہ بن رہی ہیں وہ اس جنگ کے آغاز میں فریق نہیں ہیں اور ان کے بنیادی انفراسٹرکچر کے لیے خطرات ہیں جبکہ سرمایہ کاری اور اقتصادیات کے راستوں میں رکاوٹیں پڑنے سے غیریقینی کی صورت حال ہے۔
اس تناظر میں اسلام آباد کا سفارتی مرکز کے طور پر ابھرنا خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ان چند بقیہ چینلز میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے جس کے ذریعے پرنسپل پارٹیوں کے درمیان منظم رابطہ کاری ممکن رہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں نے اس چینل کو قبول کیا ہے - اور اسے اہم علاقائی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے جس سے اس کو سٹریٹجک وزن ملتا ہے۔ یہ تنازعات کو حل نہیں کرتا لیکن یہ ان کے حل کے لیے ضروری شرائط کو محفوظ بناتا ہے۔
سعودی پاکستان شراکت داری اس ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں دفاعی تعاون، اقتصادی تعلقات اور گہرا ادارہ جاتی اعتماد شامل ہے۔
ریاض اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ ہم آہنگی نے خاص طور پر موجودہ بحران میں اس شراکت داری کو تقویت دی ہے۔ یہ تعاون دفاعی نوعیت کا ہے، جس کی توجہ خودمختاری کے تحفظ اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے بجائے اس کے کہ طاقت کو فوری سکیورٹی کی ضروریات سے آگے بڑھایا جائے۔
مزید برآں اسلام آباد اجلاس کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ اس نے کیا کچھ کیا ہے جس میں مسلسل کشیدگی کے ماحول میں ایک قابل اعتماد راستہ فراہم کیا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیج کافی حد تک برقرار ہے اور اندازوں کی غلطی کے خطرات بھی ہیں تاہم یہ ایک ایسے چینل کے طور پر سامنے آیا ہے جو علاقائی قوتوں کی حمایت رکھتا ہے اور منظم مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے سپیس فراہم کرتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب تنازع پھیلتا جا رہا ہے اس چینل کا بننا ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
دوسروں کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کے وقت میں ریاض اور اسلام آباد نے اس پر قابو پانے کے لیے ایک اہم کام کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تنازعات کے درمیان بھی نہ صرف سفارت کاری ممکن ہے بلکہ فعال کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔
• ڈاکٹر علی عواض العسیری نے پاکستان (2001 تا 2009) اور لبنان (2009 تا 2017) میں سعودی عرب کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اس وقت ریاض میں قائم بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ فار ایرانی سٹڈیز رسانہ میں بورڈ آف ٹرسٹیز کے نائب سربراہ ہیں۔ انہیں اپنی مخصوص سفارتی خدمات پر اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات سے نوازا گیا جن میں ہلال پاکستان، سٹیٹ آرڈر آف لبنان، اور آرڈر آف کنگ عبدالعزیز اور آرڈر آف کنگ فیصل شامل ہیں۔
انہوں نے بیروت عرب یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اور ’دہشت گردی کا مقابلہ: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا کردار‘ (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2009) کے مصنف ہیں۔