Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’امریکی افواج جلد ایران میں اپنا کام نمٹا لیں گی‘، صدر ٹرمپ کا قوم سے خطاب

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوجیں ایران میں ’جلد ہی اپنا کام مکمل‘ کر لیں گی کیونکہ ’اہم سٹریٹیجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے قوم سے پہلے خطاب میں صدر ٹرمپ نے جنگ کا بھرپور دفاع کیا۔
صدر ٹرمپ کئی ہفتے تک جنگ سے متعلق اہداف تبدیل کرتے رہے ہیں جبکہ ان کے پیغامات میں بھی تضاد دکھائی دیتا رہا تاہم اس خطاب  میں انہوں نے جنگ سے متعلق اہداف کو کسی حد تک واضح کیا ہے آیا وہ جنگ کو سمیٹنا چاہتے ہیں یا پھر کارروائیاں بڑھانا چاہتے ہیں۔
اس خطاب سے تھوڑی دیر قبل ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے ہوئے جبکہ اسرائیل نے بھی تہران کو نشانہ بنایا۔
امریکی صدر نے خطاب کا زیادہ تر وقت انہی نکات کو بیان کرنے میں صرف کیا جن کا تذکرہ وہ حالیہ ہفتوں کے دوران پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران میں اپنے بڑے فوجی مقاصد کو پورا کرنے کے قریب ہے اور آپریشن دو سے تین ہفتے کے دوران ہونے کی توقع ہے۔
تاہم ساتھ بھی اس عزم کا اظہار کہا کہ امریکی فوجیں ایران کو سخت نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔
 صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’برسوں تک ہر کوئی یہ کہتا رہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا مگر آخر میں یہ صرف باتیں ثابت ہوں گی اگر وقت آنے پر آپ ایکشن لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پچھلے چار ہفتوں میں ہماری فوجوں جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے امریکی حکومت کے پچھلے ادوار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدور نے غلطیاں کیں اور وہ ان کو سدھار رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ صورت حال 47 سال سے چلی آ رہی ہے جس کو میرے عہدہ سنبھالنے سے بہت پہلے سنبھال لیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملات کو بھی تسلیم کیا تاہم ساتھ ہی زور بھی دیا کہ یہ سب کچھ عارضی ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کی دوپہر کو ایسٹر کے موقع پر لنچ کے وقت ایران کے بارے میں کہا تھا کہ ’ہم صرف ان کا تیل لے سکتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے ملک کے لوگوں میں اتنا صبر ہے کہ ہم ایسا کر لیں، اور یہ بدقسمتی کی بات ہے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہاں، وہ اس کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، اگر ہم نے وہاں (ایران میں) قیام کیا میں صرف تیل حاصل کرنے کو ترجیح دوں گا اور ہم ایسا آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں، لیکن میرے ملک میں لوگ کہتے ہیں جیتو، تم جیت رہے ہو اور جیت کر گھر آ جاؤ، اور مجھے یہ ٹھیک لگتا ہے کیونکہ ہمارے پاس اپنا اور وینزویلا کا کافی تیل ہے۔‘
صدر ٹرمپ کے قوم سے خطاب سے چند گھنٹے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر ایک لمبا خط پوسٹ کیا جس میں امریکی عوام سے اپیل کرتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ امریکہ کے اس اقدام سے قبل ایران مذاکرات کر رہا تھا جبکہ اس جنگ سے امریکی عوام کے کون سے مفادات کا تحفظ ہو رہا ہے؟‘
28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی ایران جنگ کے مقاصد کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دعوے بدلتے رہے ہیں جبکہ وہ پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ایسا بہت جلد ہونے والا ہے تاہم ساتھ ہی وہ جنگ کو مزید بڑھانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
اس وقت ہزاروں کی تعداد میں مزید امریکی فوجی مشرق وسطیٰ پہنچ رہے ہیں اور مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
علاوہ ازیں صدر ٹرمپ ایران کے جزیرے خارگ پر حملے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں جبکہ ماہرین اور سابق حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے یورینیئم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی دستے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک پیچیدہ اور پرخطر آپریشن ہو گا جو تابکاری کے اثرات اور کیمیائی خطرات سے بھرپور ہو گا۔

شیئر: