Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسلم ورلڈ لیگ کی ’فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کے اختیار‘ کے اسرائیلی قانون کی مذمت

مسلم ورلڈ لیگ نے نئے اسرائیلی قانون کو فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی قرار دیا ہے (فوٹو: سانا)
مسلم ورلڈ لیگ (رابطہ عالم اسلامی) نے اسرائیل کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور ہونے والے اس قانون کی مذمت کی ہے مخصوص طور پر سزائے موت کی اجازت دیتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مسلم ورلڈ لیگ کا کہنا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہے اور یہ نیا قانون مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کو ان فلسطینیوں کے لیے ایک طے شدہ سزا بنا دے گا جن کو اسرائیلیوں پر حملوں کے الزامات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔
مغربی کنارے فلسطینیوں کے خلاف فوجی عدالوں میں مقدمہ چلایا جاتا ہے، اسرائیلی شہریوں بشمول ان فلسطینیوں کے جو اسرائیل میں رہتے ہیں، کے خلاف شہری عدالتوں میں مقدمہ چلایا جاتا ہے لیکن بل میں مؤثر طور پر استعمال کی گئی زبان کا مطلب یہ ہے کہ شہری عدالوں میں صرف فلسطینیوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل اور مسلم سکالرز کی نتظیم کے چیئر پرسن محمد العیسیٰ نے اس قانون کی مذمت کی ہے اور اس کو  جبر اور نسلی امتیاز کے ذریعے فلسطینی عوام کی زندگیوں، عزتوں اور حقوق کی مسلسل خلاف ورزی اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک قرار دیا ہے۔
انہوں نے اس امر کی تصدیق بھی کہ سعودی عرب، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے بھی مسلم ورلڈ لیگ کے مؤقف کی تائید اور قانون کی مذمت کی گئی ہے۔

شیئر: