ہر وقت آن لائن، توجہ کم: کیا سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال ذہنی کمزوری کا سبب بن رہا ہے؟
ہر وقت آن لائن، توجہ کم: کیا سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال ذہنی کمزوری کا سبب بن رہا ہے؟
جمعہ 3 اپریل 2026 7:16
آج کل لوگوں کو سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال کی عادت ہے(فوٹو: پیکسلز)
سعودی عرب کے نوجوان جو ڈیجیٹل کے ذریعے ایک دوسرے سے بہت زیادہ جُڑے ہوئے ہیں، اب پہلے سے بھی زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ویڈیوز، مسلسل نوٹیفکیشن اور خاص حساب و شمار کے ذریعے آنے والی فیڈ، زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
’امریکی سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن‘ اور ’او ای سی ڈی‘ کے مطابق توجہ میں مسلسل کمی، ذہنی تھکن اور سیکھنے میں دشواری کا تعلق بار بار کی ڈیجیٹل مداخلت سے ہے۔
اس صورتِ حال کو اکثر ’برین روٹ‘ یا ’ذہنی بربادی‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اصطلاح رسمی نہیں پھر بھی مسلسل ڈیجیٹل اکساہٹ کی وجہ سے اِسے ذہنی دباؤ کےمختصر اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں جہاں سوشل میڈیا، ریجن میں سے سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، یہ مسئلہ کلاس رومز، دفتروں اور گھروں میں بھی بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
مختصر ویڈیوز کے لیے بنائے گئے پلیٹ فارمز کی وجہ سے معلومات کے استعمال کے طریقے بدل گئے ہیں۔ مواد فوری دستیاب ہو جاتا ہے اور اسے بنایا ہی ایسے جاتا ہے کہ اس پر نوجوانوں کو منٹوں کے بجائے سیکنڈز کے لیے توجہ دینی پڑے۔
سعود الدوسری ریاض میں یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ مطالعہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت انھیں پتہ چلتا ہے کہ یہ معاملہ کتنا پیچیدہ ہے۔
’میں کتابیں کھول کر بیٹھ سکتا ہوں اور واقعی چاہتا ہوں کہ اُن پر توجہ کر سکوں لیکن میری توجہ بار بار متاثر ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اُس وقت بھی جب فون میرے ہاتھ میں نہیں ہوتا مجھے لگتا ہے کہ ابھی کسی قسم کا خلل پڑنے والا ہو۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جب کام کا بوجھ اٹھایا جا سکتا ہو تب بھی پڑھنے سے ذہن تھک جاتا ہے۔ مسئلہ یہ نھیں کہ جو کچھ پڑھا جا رہا ہے وہ سمجھ نہیں آ رہا بلکہ یہ کہ اس پر دیر تک توجہ نہیں دی جاتی اور وہ دماغ میں بیٹھتا نہیں ہے۔
اس صورتِ حال کا تعلق ماہرین کے نزدیک کورونا وائرس کی وبا سے بھی ہے جس نے طویل مدت میں صورتِ حال کو تبدیل کیا ہے۔ اس زمانے میں پڑھنا لکھنا آن لائن ہو گیا تھا اور کمپیوٹر کی سکرین دیکھنے کا دورانیہ بڑھ گیا تھا۔ جب وبا کے بعد حالات نارمل ہوئے، تو کووڈ کے دوران پڑ جانے والیں اکثر عادتیں نہیں بدل سکیں۔
آج کل ہر کسی کے ہاتھ ہر وقت موبائل ہوتا ہے (فوٹو: کریئیٹیو کومنز)
آمنہ الشھری دمام میں ایک یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور بتاتی ہیں کہ اُن کے چیزوں کو سیکھنے کے تجربات ہی بدل گئے ہیں۔
’جب میں مطالعہ کرتی ہوں تو مجھے پتہ چل جاتا ہے۔ میری توجہ اِدھر اُدھر ہو جاتی ہے۔ میں ایک ہی صفحہ پڑھتی رہتی ہوں اس لیے نہیں کہ اس پر جو لکھا ہے اُسے سمجھنا مشکل ہے بلکہ اِس لیے کہ توجہ بار بار بدل جاتی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ خاموشی برداشت کرنا اب مشکل تر ہو گیا ہے۔ ’اگر کچھ نہیں ہو رہا تو میرے دل میں آتا ہے کہ فون چیک کروں۔ یہ بالکل خود بخود ہوتا لگتا ہے۔‘
ذہنی صحت کے پروفیشنلز کہتے ہیں اس صورتِ حال اور مسلسل میسجز کی وجہ سے ذہنی تھکاوٹ، نیند میں خلل اور نچلے درجے کی ’اینگزائیٹی‘ یا پریشانی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے اثرات اکثر نازک اور رفتہ رفتہ بڑھتے ہیں بجائے نہ کہ اِن میں شدت پائی جائے۔
سعودی عرب میں کام کی جگہوں پر یہ مسئلہ اُلجھن کا کم اور تھکاوٹ کا زیادہ بن گیا ہے۔
سارہ العتیبی نوجوان ہیں اور کارپوریٹ ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈیجیٹل اوور لوڈ اب نارمل ہے۔
’آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ ہر وقت موجود ہوں۔ مختلف پلیٹ فارمز سے سارا دن میسجز آتے رہتے ہیں۔آپ کو مسلسل کبھی ایک تو کبھی دوسرا کام کرنا پڑ رہا ہوتا ہے۔‘
آکسفورڈ پریس نے برین روٹ کو 2024 کا لفظ قرار دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
سارہ العتیبی کہتی ہیں کہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ’شام کو آپ کو شدید تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے اور ضروری نہیں کہ آپ کوئی بامقصد کام بھی کررہے ہوں۔‘
فوراً پیغامات پہنچانے والی ڈیوائسس جیسے وٹس ایپ، نے توجہ سے کام کرنے اور مسلسل ردِ عمل کے درمیان فرق کو دھندلا دیا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ آپ کے لیے مسلسل سوچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈیجیٹل رویہ کام اور پڑھائی سے کہیں آگے بڑھ کر ہمارے روزمرہ کے معمولات کو نئے سِرے سے تشکیل دے رہا ہے۔ خاندان کے لوگ جب ملتے ہیں تو نسبتاً خاموش ہوتے ہیں۔بات چیت، جملوں کے عین بیچ میں اُس وقت یکدم رک جاتی ہے جب آپ کے فون کی سکرین کی روشنی اچانک چمکتی ہے۔
الدوسری کہتے ہیں انھیں اپنے اندر اور اردگرد کے لوگوں میں یہ تبدیلی نظر آ رہی ہے۔
’اپنے خیالات کے ساتھ تنہا رہنا اب تکلیف دہ بن گیا ہے۔ آپ سوچے بِنا ہی، اپنے فون کی طرف لپکتے ہیں۔‘
سعودی عرب، ’وژن 2030‘ کے تحت تعلیم، جدت و اختراح اور علم پر مبنی معیشت پر بہت زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے۔ اِن خواہشات کی تکمیل کا انحصار ایسے کام کرنے والوں پر ہے جو سیکھ سکیں، مسائل کو حل کر سکیں اور اُن کی فکر میں گہرائی ہو۔ اور اِن تینوں باتوں کے لیے توجہ بنیاد کا کام دیتی ہے۔
سوشل میڈیا کا استعمال کلاس رومز، دفتروں اور گھروں میں بھی بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے (فوٹو: پیکسلز)
اگر طلبہ توجہ ہی نہ کر پائیں تو سیکھنے کے نتائج متاثر ہوں گے۔ اگر پروفیشنل کی توجہ میں مسلسل خلل پڑتا رہے گا تو فیصلہ سازی اور تخلیق میں کمی آئے گی۔ اگر سکون بار بار متاثر ہو گا تو زیادہ امکان یہی ہے کہ ذہن تھک کر چُور ہو جائے گا۔
تشویش یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایسے ہو رہا ہے۔ سمارٹ فون اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم اب ہماری روز مرہ کی زندگی کے اہم اور لازمی آلات ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اِن کے استعمال کا کوئی ضابطہ نہیں اور ماحول ایسا ہے جو اِن کے مسلسل استعمال کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔
سعودی عرب میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی بہت بڑھی ہے اور نوجوانوں کی زیادہ تعداد توجہ بٹنے، نیند نہ آنے اور ذہنی تھکاوٹ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مدد چاہ رہی ہے۔ بہت سے واقعات میں اِن مسائل کی وجہ کام کا بوجھ نہیں بلکہ ذہنی بوجھ ہے۔
تاہم ماہرین محتاط کرتے ہیں کہ اس پر خوف زدگی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ کوئی ثبوت نہیں کہ ڈیجیٹل آلات کا استعمال ذہن کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ذہنی پیٹرن کو پھر سے نئی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔
’رویے میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں فرق پیدا کر سکتی ہیں جیسے آپ نوٹیفکیشنز کو محدود کر دیں، پڑھائی یا کام کے دوران اِن ڈیوائسز کو مخصوص اوقات کے دوران استعمال نہ کریں تاکہ توجہ میں خلل نہ پڑے اور جہاں ممکن ہو سرکاری کمیونیکیشن کو اپنے ذاتی وقت سے الگ رکھیں۔
ایک ساتھ بیٹھنے کے وقت بھی لوگ سکرولنگ میں مصروف ہو جاتے ہیں (فوٹو: کریئیٹیو کومنز)
الشھری کہتی ہیں کہ وہ اِس طرح کے تجربات کر رہی ہیں۔ ’میں سوشل میڈیا چھوڑنے کی کوشش نہیں کر رہی۔ میں چاہتی ہوں کہ جب ضرورت پڑے تو میں توجہ قائم رکھنے کے قابل ہو سکوں۔‘
اُن کا تجربہ ایک وسیع تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی دامن چھڑانے کے بجائے کئی سعودی شہریوں سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی اُن کی زندگی میں کسی طرح فِٹ ہو سکتی ہے۔
’برین روٹ‘ کی اصطلاح شاید معمولی یا غیر رسمی ہو لیکن اِس سے پیدا ہونے والی تشویش حقیقی ہے۔ ایک ایسی سوسائٹی جو آپس میں مستقلاً جُڑی ہوئی ہے، اُس میں توجہ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔