Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماں کھونے کے بعد ’اب خود اسی انجام کے انتظار میں‘، فریج اٹھا کر میراتھن دوڑنے والا بیٹا

ڈاکٹروں کے مطابق غالب امکان ہے کہ جارڈن اور ان کے بھائی چالیس برس کی عمر میں ڈیمنشیا کا سامنا کریں گے۔ (فوٹو: انسٹاگرام، دا ایف ٹی ڈی برادرز)
لندن کی سڑکوں پر کل ایک غیرمعمولی منظر دیکھنے کو ملا جہاں 30 سالہ جارڈن ایڈمز اپنی پشت پر فریج باندھ کر میراتھن دوڑ رہا تھا۔ یہ کوئی سٹنٹ نہیں تھا، نہ ہی محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش۔
میراتھن مکمل کرنے پر جارڈن نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ’میں نے ابھی لندن میراتھن میں حصہ لیا ہے اور وہ بھی اپنی پشت پر فریج باندھ کر۔ ایک میراتھن مکمل ہو گئی اب 32 باقی ہیں۔‘
انہوں نے مزید لکھا ’لندن، تم ناقابلِ یقین تھے۔ میری فیملی کبھی بھی اس محبت اور مہربانی کا بدلہ نہیں چکا سکتی جو ہم نے اس ہفتے، خاص طور پر آج محسوس کی۔ اگر میری پشت پر فریج باندھ کر میراتھن دوڑنا ہی وہ قیمت ہے جو مجھے چکانی ہے، تو میں یہ ہر اس خاندان کے لیے کروں گا جو ڈیمنشیا سے متاثر ہو چکا ہے، یہ آپ کے لیے تھا۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’لیکن یہ اس 15 سالہ بچے (میرا بچپن) کے لیے بھی تھا، جو بستر پر لیٹ کر روتا تھا کیونکہ دنیا میری ماں کو مجھ سے چھین رہی تھی۔ آج وہ اوپر سے مسکرا رہی تھیں۔‘
یہ کہانی صرف ایک میراتھن کی نہیں ہے، یہ ایک ایسی حقیقت کی کہانی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔
جارڈن ایڈمز اور ان کے بھائی سیان اُس وقت نوعمر تھے جب ان کی والدہ جیرالڈین کو فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا (FTD) کی تشخیص ہوئی۔  یہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے دماغ، شخصیت اور رویے کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہے۔
پانچ سال کے اندر، انہوں نے اپنی ماں کو کھو دیا۔ لیکن ایک اور صدمہ اس کے بعد آیا جب انہیں بتایا گیا کہ وہ دونوں خود بھی اسی نایاب جینیاتی بیماری کے حامل ہیں اور غالب امکان ہے کہ وہ چالیس برس کی عمر میں اسی انجام کا سامنا کریں گے۔
یعنی وہ جانتے ہیں کہ کیا آنے والا ہے، انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ ہر مرحلہ دیکھا ہے۔
Jordan and Cian ran the length of the UK to raise money last year (Instagram/thefdtbrothers)
جارڈن اور سیان نے گزشتہ سال برطانیہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دوڑ لگا کر فنڈز جمع کیے (فوٹو: انسٹاگرام، دا ایف ٹی ڈی برادرز)

جارڈن اپنی پشت پر فریج باندھ کر 42 کلومیٹر کیوں دوڑے؟
جارڈن کے لیے یہ محض ایک چیلنج نہیں تھا بلکہ ایک علامت تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات زندگی ایسی لگتی ہے جیسے آپ کوئی بہت بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، ایسا بوجھ جو کسی اور کو نظر نہیں آتا۔ ڈیمنشیا بھی ایسا ہی ہے۔ خاموش، مگر تباہ کن۔
اسی لیے وہ اور ان کے بھائی 32 دنوں میں 32 میراتھن دوڑ رہے ہیں، تاکہ لوگوں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ یہ بوجھ اکیلے نہیں اٹھانا چاہیے۔
اپنی ماں کی موت کے بعد جارڈن شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور خوف کا شکار رہے۔ انہیں لگتا تھا کہ ان کا مستقبل پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں دوستوں اور خاندان کے سہارے نے بچایا۔
اور اب وہی پیغام وہ دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ جو بھی بوجھ تم اٹھا رہے ہو، تمہیں اسے اکیلے نہیں اٹھانا۔
کل لندن میں انہوں نے واقعی وہ میراتھن مکمل کی اور وہ بھی فریج کے ساتھ۔ یہ صرف ایک دوڑ نہیں تھی، یہ وقت کے خلاف ایک اعلان تھا۔ ایک بیماری کے خلاف آواز تھی۔
اور ایک ایسے انسان کی کہانی تھی جو جانتے ہوئے بھی کہ انجام کیا ہو سکتا ہے پھر بھی جینے کا انتخاب کر رہا ہے۔

شیئر: