Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات میں ’پیش رفت‘، چین کی ثالثی میں رابطوں کی تصدیق

چین حالیہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مہینوں میں ایک متحرک ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کے بعد چین نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات ’مستقل مزاجی‘ سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے جمعے کو بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ دونوں پڑوسی ممالک بیجنگ کی ثالثی کی کوششوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
مذاکرات کہاں ہو رہے ہیں؟
اگرچہ چینی ترجمان نے مذاکرات کے مقام کی وضاحت نہیں کی تاہم جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا تھا کہ یہ ملاقاتیں چین کے شمال مغربی شہر ارومچی میں ہو رہی ہیں۔
چین جس کی سرحدیں ان دونوں ممالک سے ملتی ہیں، حالیہ مہینوں میں ایک متحرک ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
مارچ میں چینی حکام نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے تھے اور خصوصی ایلچی کے ذریعے مفاہمت کا پیغام بھیجا تھا۔
یاد رہے کہ سنہ 2021 میں کابل میں طالبان کی واپسی کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اپنی بدترین سطح پر ہیں۔

اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر ان عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

 گزشتہ برس اکتوبر سے دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں افغان شہریوں کا جانی نقصان زیادہ رہا ہے۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر ان عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔
کابل ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس سے افغانستان کا کوئی تعلق نہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق بیجنگ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

شیئر: