Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ کے آغاز کے بعد پہلا موقع، فرانسیسی اور جاپانی بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب

عام حالات میں آبنائے ہرمز سے روزانہ قریباً 120 بحری جہاز گزرتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار فرانسیسی اور جاپانی ملکیت والے تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی یہ اہم ترین آبی گزرگاہ عملی طور پر بند رہی ہے تاہم جمعرات کو چند جہازوں نے اس خطرناک راستے سے گزرنے کا خطرہ مول لیا۔
جہاز رانی کے ڈیٹا پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’میرین ٹریفک‘ کے مطابق فرانسیسی گروپ سی ایم اے سی جی ایم کا مالٹا کے جھنڈے والا جہاز ’کریبی‘ جمعرات کی سہ پہر خلیج سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جہاز نے اپنے ٹرانسپونڈر سسٹم پر منزل کے بجائے ’اونر فرانس‘ کا پیغام نشر کیا تاکہ کسی ممکنہ حملے سے بچا جا سکے۔
بحری امور کے معتبر جریدے 'Lloyd’s List' کے مطابق فرانسیسی جہاز نے وہ راستہ اختیار کیا جسے ماہرین اب ‘تہران ٹول بوتھ‘ کا نام دے رہے ہیں یعنی وہ راستہ جو ایرانی پانیوں سے گزرتا ہے اور جس کے لیے تہران کی مبینہ منظوری ضروری سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب ایک جاپانی کمپنی کے اشتراک سے چلنے والے ٹینکر سمیت تین دیگر جہازوں نے عمان کے ساحلوں کے قریب سے گزرنے والا جنوبی راستہ اختیار کیا۔
جاپانی میڈیا کے مطابق ’سوہار ایل این جی‘ جنگ کے آغاز کے بعد خلیج سے نکلنے والا پہلا جاپانی جہاز بن گیا ہے۔
ان تمام جہازوں نے اپنی شناخت چھپانے یا تحفظ کے لیے اپنے سگنلز میں خود کو ’عمانی جہاز‘ ظاہر کیا۔
تجارت میں غیر معمولی کمی
عام حالات میں آبنائے ہرمز سے روزانہ قریباً 120 بحری جہاز گزرتے ہیں لیکن یکم مارچ سے اب تک یہ تعداد سمٹ کر محض 221 رہ گئی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس وقت جو تھوڑی بہت نقل و حمل جاری ہے، اس میں 60 فیصد جہاز یا تو ایران سے آ رہے ہیں یا وہاں جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مخصوص جہازوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی نے عالمی منڈیوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔ بیشتر ٹینکرز جو اس وقت خام تیل لے کر نکل رہے ہیں، وہ ایرانی جھنڈے تلے ہیں اور ان کی منزل چین بتائی جا رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں کئی جہازوں نے اپنی شناخت کے ساتھ ’چائنیز کریو‘ جیسے پیغامات بھی لکھے ہیں تاکہ ایرانی کارروائیوں سے بچا جا سکے۔
موجودہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی یہ گزرگاہ اب مکمل طور پر جنگی حالات اور ایرانی اثر و رسوخ کے تابع ہو چکی ہے۔

شیئر: