Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب: اقامہ اور لیبر قانون کی 14 ہزار خلاف ورزیاں، 6 ہزار 285 غیرملکیوں کی واپسی

ملکت میں داخلے کی کوشش پر ایک ہزار 449 افراد کو گرفتار کیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی  مزید 14 ہزار 242 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ 6 ہزار 285 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 26 مارچ سے یکم اپریل 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار 884 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 948 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار 410 کو لیبر لا کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 449 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 71 فیصد ایتھوپین، 27 فیصد یمنی اور 2 فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 29 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
 سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 25 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ 
  مجموعی طور پر 36 ہزار365 تارکین جس میں 32 ہزار 309 مرد اور 4 ہزار 56 خواتین شامل ہیں، جو اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔
6 ہزار 808 کو سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے اور 3 ہزار 416 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ 6 ہزار 285 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔

واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ 
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ  ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

 

شیئر: