دارین اور تاروت میں قدیم مکانات، جزیرے کا ثقافتی ورثہ
جمعرات 9 جولائی 2026 8:57
سعودی عرب کے مشرقی ریجن میں جزیرۂ دارین اور تاروت میں بنے ہوئے قدیم مکانات اپنی فنکارانہ سجاوٹ اور تحریروں کے باعث ممتاز حیثیت رکھتے ہیں جن سے جزیرے کے ثقافتی ورثے کے علاوہ یہاں رہنے والوں کے دستکاری اور جمالیاتی احساس کا بھی علم ہوتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق جزیرے پر دستکاری اور ثقافتی ورثے کو دیکھ کر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ زراعت، موتیوں کے حصول کے لیے غوطہ خوری اور ماہی گیری، اِس جزیرے کے لیے کتنی اہمیت کے حامل رہے ہیں اور اِس ماحول نے یہاں رہنے والوں کی زندگیوں کی تشکیل میں کیا کردار ادا کیا ہے۔
دراین اور تاروت کے جزیرے پر تعمیر ہونے والے مکانوں میں جپسم کے پتھروں کو کافی زیادہ استعمال کیا گیا ہے جنھیں سمندر کی تہہ سے حاصل کیا گیا۔ گھروں کے دروازوں، کھڑکیوں اور دیواروں پر نقش و نگار، آنکھوں کو متوجہ کرتے ہیں جبکہ سجاوٹی نقوش جزیرے پر رہنے والوں کی سماجی زندگی اور یہاں کی تجارتی سرگرمیوں کے عکاس ہیں۔

ورثے کے ماہر فتحی البندلی نے بتایا کہ دارین اور تاروت کا جزیرہ، خلیج عرب میں سب سے بڑا جزیرہ ہے جس کی تاریخ، قدیم ماضی سے جا ملتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہاں کے درودیوار پر کندہ عبارتیں اور آرائشی نقوش، تاریخی دستاویزات سے کم نہیں جنھیں مکانات پر اُتار کر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ یہیں سے تجارتی مرکز اور کئی صدیوں تک زیرِ استعمال رہنے والی بنیادی بندرگاہ کی موجودگی سے علاقے کی سٹریٹیجک اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدائی دور کے معمار، تعمیرات کے لیے چونے کے پتھروں پر زیادہ انحصار کرتے تھے جسے سمندر کی تہہ سے نکالا جاتا تھا کیونکہ یہ نہ صرف سخت ہوتا تھا بلکہ اس میں مکانوں کو گرمی سے بچائے رکھنے کے خواص بھی پائے جاتے تھے۔ چونے کو پتھروں کو جوڑنے، پلاسٹر کرنے اور سجاوٹ کے لیے بنیادی میٹریل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

مملکت میں آج کل تاریخی قریوں کی تعمیرو ترقی کا کام جاری ہے جس میں دارین اور تاروت کا جزیرہ بھی شامل ہے۔ اِس کا مقصد یہاں کے باشندوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنا، سیاحت کا فروغ، جزیرے کی مالا مال تاریخی اور ثقافتی میراث کی حفاظت، آثارِ قدیمہ کی سائٹس کو بین الاقوامی سیاحت کے مراکز اور ورثے کی مقامات میں تبدیل کرنا، معیشت کے مقامی ذرائع میں تنوع لانا اور علاقے میں رہنے والوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا شامل ہے۔