قصیم میں انجیر کی 30 اقسام، ایک لاکھ سے زیادہ درخت
جمعرات 9 جولائی 2026 10:37
قصیم غذائی تحفظ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں انجیر کی کاشت حالیہ برسوں میں کھجور، آڑو، انگور، تربوز اور خربوزے کے ساتھ امید افزا فصلوں میں سے ایک فصل کے طور پر ابھری ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق قصیم ریجن مملکت میں غذائی تحفظ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
قصم میں اس وقت 30 فارمز موجود ہیں جہاں 30 اقسام کی انجیر پیدا کی جا رہی ہے جس میں مقامی اور بین الاقوامی اقسام بھی شامل ہیں۔ ریجن میں انجیر کے ایک لاکھ سے زیادہ درخت ہیں۔
علاوہ ازیں مملکت کی مارکیٹ میں موسمی پھلوں کی مختلف اقسام وافر مقدار میں دستیاب ہیں جو اعلی معیار اور غذائی افادیت سے بھرپور ہیں۔
مقامی پھلوں کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آر ہا ہے جس سے مملکت کی زرعی پیداوار کے تنوع اور معیار کی عکاسی ہوتی ہے۔

وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کی جانب سے رواں برس موسمِ گرما کے سیزن میں ’حلوہ بموسمھا‘ کے عنوان سے مہم شروع کی گئی ہے جس کے تحت علاقائی موسمی پھلوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے انجیر کی مقامی سطح پر سالانہ پیداوار 29 ہزار 600 ٹن سے تجاوز کرچکی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق مملکت میں انجیر کے 5 لاکھ 65 ہزار 6 سو سے زائد درخت موجود ہیں۔

انجیر کا پھل اعلی غذائی اہمیت، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہونے کے باعث مقبول ہے۔
سعودی عرب کے تمام ریجنز میں انجیر کی کاشت کامیابی سے کی جاتی ہے۔ اس کی معروف اقسام میں ’براون ترکی، بلدی، ہسپانوی زرد، سلطانی اور ہسپانوی سیاہ‘ شامل ہیں۔

وزرات کے مطابق انجیر کے متعدد استعمال ہیں۔ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری میں بھی اس کی اہمیت ہے۔ ہیلتھ اینڈ بیوٹی پروڈکس کےعلاوہ جوس اور آئس کریم میں بھی اس کا استعمال کامیابی سے کیا جاتا ہے۔
