مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے برطانوی ثقافت کی پہچان ’فش اینڈ چپس‘ شدید متاثر
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے برطانوی ثقافت کی پہچان ’فش اینڈ چپس‘ شدید متاثر
اتوار 5 اپریل 2026 10:53
سنہ 1860 کی دہائی سے رائج ’فش اینڈ چپس‘ کی ترکیب میں سفید مچھلی، تلے ہوئے آلو (چپس) اور مٹر شامل ہوتے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
برطانیہ میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سائے اب عام آدمی کی پلیٹ تک پہنچ گئے ہیں جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک کی روایتی غذا ’فش اینڈ چپس‘ کے کاروبار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ماہی گیر پیٹر بروس شمالی سمندر میں ہیڈاک اور کوڈ مچھلی کے شکار کے لیے اپنے بحری جہاز میں قریباً پانچ ہزار پاؤنڈ (6600 ڈالر) کا ڈیزل استعمال کرتے تھے۔ آج صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔
پیٹر بروس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’اب پچھلے چکر پر ہمارا 10 ہزار پاؤنڈ خرچ ہوا حالانکہ ایندھن بچانے کے لیے عملے نے کشتی کی رفتار بھی کم کر دی تھی۔‘
سکاٹ لینڈ کی بندرگاہ پیٹر ہیڈ سے وابستہ بروس کا اندازہ ہے کہ ایک سال میں یہ اضافی اخراجات ایک لاکھ پاؤنڈ سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
بروس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مچھلی کی قیمت پر فوری طور پر پڑے گا یا نہیں لیکن وہ فکر مند ہیں کہ ایندھن کی گرانی اس کلاسیکی برطانوی کھانے کی طلب کو کم کر دے گی۔
ان کا خدشہ ہے کہ گاہک باہر جا کر کھانا کم کر دیں گے یا مچھلی خریدنا چھوڑ دیں گے۔
سنہ 1860 کی دہائی سے رائج ’فش اینڈ چپس‘ کی ترکیب میں سفید مچھلی، تلے ہوئے آلو (چپس) اور مٹر شامل ہوتے ہیں۔
سنہ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں قریباً 10 ہزار 500 ’فش اینڈ چپس‘ کی دکانیں موجود ہیں جو کہ میکڈونلڈز اور کے ایف سی جیسے بڑے برانڈز کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔
برطانوی عوام کے لیے ’فش اینڈ چپس‘ صرف ایک کھانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مشکلات کا انبار
نیشنل فیڈریشن آف فش فرائرز کے صدر اینڈریو کروک کا کہنا ہے کہ یہ صنعت شدید دباؤ میں ہے۔ وہ کہتے ہیں ’مچھلی کی قیمتیں پہلے ہی آسمان پر ہیں، توانائی مہنگی ہو گئی ہے اور ملازمین کی اجرتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘
رائل آٹوموبائل کلب کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے برطانیہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لیکن مسائل صرف یہیں تک محدود نہیں۔
یوکرین کی جنگ نے پہلے ہی مچھلی کی سپلائی متاثر کر رکھی تھی، کیونکہ برطانیہ اپنی مچھلی کا 30 سے 40 فیصد حصہ روس سے حاصل کرتا تھا۔ اب آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی سپلائی متاثر ہونے سے آلوؤں کی پیداوار اور خوردنی تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
متبادل راستوں کی تلاش
اینڈریو کروک جو مچھلی اور چپس کی ایک پلیٹ قریباً 11.45 پاؤنڈ میں فروخت کرتے ہیں، اب قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اب شمالی امریکہ اور جنوبی افریقہ سے سستی مچھلی منگوانے اور پورشن (خوراک کی مقدار) کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
برطانوی عوام کے لیے ’فش اینڈ چپس‘ صرف ایک کھانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ہے لیکن عالمی جنگی حالات نے اس ورثے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔