Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بھٹو سے عمران تک: غدار غدار کھیلنا کب ختم ہوگا؟

سابق وزیراعظم نواز شریف اور انڈین وزیراعظم کے درمیان ملاقاتیں ہو چکی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
ایک فیس بک پوسٹ میں کراچی کے معروف سیاسی ہفت روزہ جریدے کے ٹائٹل کی تصویر تھی۔ یہ غالباً سنہ 1989 کا دور ہو گا کیونکہ تب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنی تھیں اور میاں نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے وزیراعلیٰ پنجاب۔ اگلے 18 ماہ شدید پولرائزیشن سے بھرپور تھے، پنجاب حکومت پوری طرح مرکز کے خلاف کھڑی تھی اور پاکستان کا پورا رائٹ ونگ بڑے دل و جان سے بے نظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کے خلاف صف آرا تھا۔ ممکن ہے وہ ٹائٹل بعد کے برسوں کا ہو کیونکہ 90 کے عشرے کے میں یہی کچھ ہی چلتا رہا تھا، اینٹی بھٹو پرو بھٹو لڑائی۔
اس تصویر میں بے نظیر بھٹو پر چارج شیٹ عائد کی گئی تھی، ایک خاص سنسنی خیز انداز میں جو اس زمانے میں رائٹ ونگ جرنلزم کا خاصا سمجھا جاتا تھا۔ جیسے یہ لکھا گیا کہ ان کے دادا شاہنواز بھٹو نے نہرو کو جونا گڑھ پر حملے کی دعوت دی، والد ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان توڑا، بھائی مرتضیٰ بھٹو نے الذوالفقار بنائی، خاوند نے یہ کیا وغیرہ وغیرہ۔ دراصل ایک سطر ہی لکھ دینی چاہیے تھی کہ اس خاتون نے الیکشن جیت لیا ہے اور وہ میاں نواز کے اقتدار میں آنے کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے ہم ان کی کردار کشی کر رہے ہیں۔ اس جریدے کے ایڈیٹر بڑے نیک نام صحافی تھے۔ دیانت دار، مخلص مذہبی، بدقسمتی سے دہشت گردی کا نشانہ بھی بنے۔
خاکسار کا تعلق اتفاق سے اس جنریشن سے ہے جس نے 80 کے عشرے کے اوآخر اور 90 کے عشرے کے اوائل میں کالج، یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ فروری 1996 میں صحافت بھی شروع کر دی، وہ بھی دائیں بازو کے ایک ممتاز ماہانہ جریدے سے جو مسلم لیگی صحافت کا سرخیل تھا اور شدید اینٹی پیپلزپارٹی سٹانس کا حامل۔
ہم نے اپنے کالج کے زمانے میں سینکڑوں گھنٹے سیاسی بحثوں میں گزارے۔ خاندان مسلم لیگی اور اینٹی پیپلزپارٹی تھا، ہمارے شہر میں ویسے بھی پی پی پی کمزور تھی اور مذہبی عناصر خاصے تگڑے تھے۔ ہم اسلامی جمہوری اتحاد کے حامی تھے، دائیں بازو کے پرچے تکبیر، زندگی، اردو ڈائجسٹ ذوق شوق سے پڑھتے اور پھر مخالف حلقے کے طلبہ سے بحثیں کرتے۔ اس زمانے میں ایک پرو پیپلزپارٹی جریدہ زنجیر خاصا مشہور ہوا تھا، شاید حسن نثار اس کے ایڈیٹر تھے۔
زنجیر پڑھنے والے جنرل ضیا الحق، نواز شریف، جماعت اسلامی وغیرہ پر شدید حملے کرتے اور ہم جیسے رائٹسٹ طلبہ جواب میں پیپلزپارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے۔ بھٹو صاحب کی کردار کشی کرتے، بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک سمجھتے بلکہ اپنی دانست میں بھٹو خاندان کو غدار قرار دے چکے تھے۔ ویسے یہ نکتہ ہمیں سیاستدانوں ہی نے سجھایا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ نواز شریف وزیراعلٰی پنجاب تھے، احمد پور شرقیہ میں انہوں نے جلسہ کیا۔ میرے گھر کےقریب ہی گورنمنٹ ہائی سکول تھا جس سے میں نے بھی میٹرک کیا، اس کے بڑے گراؤنڈ میں جلسہ ہوا۔ میں نے اپنی کانوں سے نواز شریف صاحب کی وہ تقریر سنی، جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک قرار دیا اور انڈیا کے ساتھ ان کے تعلقات پر حرف زنی کی۔

بے نظیر بھٹو کا اپنا سیاسی فلسفہ اور فکر رہی۔ وہ پراکسی وارز کی مخالف تھیں (فوٹو: فرسٹ پوسٹ)

برسوں بعد میں جب صحافت میں آیا اور ایسے ماہانہ جریدے میں کام کیا جو اینٹی بھٹو اور اینٹی پیپلزپارٹی تھا۔ اس جریدے کی اچھی خاصی بڑی لائبریری تھی، جہاں پچھلے 30 برسوں کی فائلیں بھی جلد کی ہوئیں محفوظ تھیں۔ فارغ وقت میں وہ پڑھتا رہتا۔ ایک دن دیکھا کہ اسی ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور ہفت روزے نے 70 کے عشرے میں ایک صفحے پر گھانسی رام نام کسی کردار کا شجرہ شائع کیا تھا۔ پہلے تو حیرت ہوئی، پھر بات سمجھ میں آئی کہ اس وقت کے نامور سیاستدان اور حکمران کی طرف اشارہ تھا۔ یہ ڈرٹی جرنلزم تھا، مگر جب شدید ہیجان ہو اور باہمی جنگ جاری ہو تو بہت کچھ ایسا غلط بھی چلا جاتا ہے جس پر بعد میں پچھتاوا ہو۔
اپنے صحافت کے بعد کے برسوں میں بہت کچھ جاننے، دیکھنے، سمجھنے کا موقع ملا۔ سینیئر صحافیوں کی نجی محفلوں میں بھی بہت کچھ جانا۔ مجھے یاد ہے کہ بطور قاری 90 کے عشرے میں لاہور کے ایک سیاستدان کے بیانات پڑھا کرتے تھے جن کے نام کے ساتھ پیر لگا کرتا تھا۔
ایک دن ایک سینیئر صحافی نے گپ شپ میں انکشاف کیا کہ پیر پگاڑا اپنے بیانات میں میاں نواز شریف پر تند و تیز حملے کیا کرتے اور شوخ و شنگ لہجے میں پھبتیاں کستے۔ یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کا کوئی جواب دے۔ اس لیے لاہور سے ان صاحب کو دریافت کیا گیا اور پھر مسلم لیگی میڈیا سیل بڑے اہتمام سے اس خودساختہ لاہوری پیر کے پیر پگاڑا کے خلاف سخت تنقیدی، طنزیہ بیانات چھپوایا کرتا۔ وہ بیان بھی یقینی طور پر میڈیا سیل ہی میں تیار ہوتے ہوں گے تاکہ پیر صاحب پگاڑا پر کاری وار ہو سکے۔

’پیر پگاڑا اپنے بیانات میں میاں نواز شریف پر تند و تیز حملے کیا کرتے‘ (فائل فوٹو: ایکس)

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ سنا، پھر بہت کچھ دیکھا بھی۔ ادوار بدلتے رہے مگر طریقہ کار یہی رہا۔ مخالف سیاستدانوں کی کردار کشی کرتے ہوئے اسے غدار قرار دو، اس کی حب الوطنی پر سوال اٹھاؤ۔ رائٹ ونگ والے لیفٹسٹوں، لبرل/سیکولرزکو مشکوک قرار دیں اور جوابی طور پر یہ لیفٹ والے اور لبرلز رائیٹ ونگ کے یا اسلامسٹوں کی کردار کشی کریں، انہیں امریکی ایجنٹ کہیں وغیرہ وغیرہ۔
دیکھیں صاف بات کہوں ایسا نہیں کہ یہ چیزیں بالکل نہیں ہیں۔ سازشی تھیوریز پر یقین رکھنا غلط ہے لیکن بہرحال سازشیں بھی ہوتی ہی ہیں۔ سپر پاورز اور ہمارے مخالف ممالک ہمارے اندر یقینی طور پر ساتھی اور آلہ کار تلاش کرتے ہوں گے، انہیں کچھ لوگ مل بھی سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان چیزوں میں احتیاط برتنی چاہیے۔ سوچ سمجھ کر بات کی جائے۔ خاص کر مین سٹریم سیاسی جماعتوں اور بڑے سیاسی لیڈروں پر اعتماد کریں۔ سوچ، ذہنی اپج اور فکر کا اختلاف ہو سکتا ہے، مگر قوی امکان ہے کہ ہمارا مخالف مجھ سے، آپ سے، ہم سے زیادہ محب وطن ہوں۔
جس طرح میں نے اوپر ذکر کیا، ہم نے بہت سے لوگوں کو بھٹو صاحب کو غدار اور انڈین ایجنٹ قرار دیتے دیکھا۔ ان کے پاس اپنے دلائل تھے، بعض ایسے جو لڑکپن میں شاید ٹھیک لگتے ہیں مگر اب مضحکہ خیز لگتے ہیں۔ مثلاً تکبیر کے ایڈیٹر صلاح الدین صاحب یہ دلیل دیا کرتے کہ دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے۔ بھٹو چونکہ انڈینز کا فیورٹ ہے، اس لیے ہمارے نزدیک مشکوک ہے۔ وہ بتایا کرتے کہ فلاں جگہ پر کسی انڈین نے ان سے کہا کہ آپ لوگ بھٹو کے کیوں مخالف ہو، وہ تو بڑا لیڈر تھا وغیرہ وغیرہ۔ بقول صلاح الدین صاحب، انہوں نے کہا کہ یہی تو بھٹو کی خامی ہے۔ انڈینز کسی محب الوطن بڑے پاکستانی لیڈر کو پسند نہیں کرتے، بھٹو کی انڈین تعریف کرتے ہیں تو اس سے خود بخود بھٹو مشکوک قرار پاتا ہے۔

’اگر  ضیا الحق امریکی ایجنٹ ہوتے تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام آتے ہی لپیٹ دیتے‘ (فوٹو: وائٹ سٹار آرکائیوز)

آج مجھے یہ دلیل نہایت بچکانہ اور مضحکہ خیز لگتی ہے۔ لوگ اپنی رائے مختلف وجوہات پر قائم کرتے ہیں۔ جیسے آج کے انڈیا اور بی جے پی قیادت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اٹل بہاری واجپائی غنیمت لگتے ہیں۔ واجپائی جس طرح اعلان لاہور کے لیے آئے، ویسا ہم مودی جی سے ہرگز ہرگز توقع نہیں کر سکتے۔ اب اگر کوئی پاکستان واجپائی کی اس حوالے سے تعریف کرے تو کیا واجپائی انڈینز کے نزدیک مشکوک ہوجائے گا؟
اندرا گاندھی کے بعد بننے والے اپوزیشن اتحاد کے وزیراعظم مرار جی ڈیسائی مختلف وجوہات کی بنا پر انڈین خفیہ ایجنسی را کے مخالف تھے۔ انہوں نے اپنے وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان سے تعلقات بہتر رکھے اور پراکسی وار کی حوصلہ شکنی کی۔ اسی وجہ سے جنرل ضیا حکومت نے ڈیسائی کو پاکستان کا بڑا سول ایوارڈ بھی دیا۔ ڈیسائی ایسا اپنے سیاسی فلسفہ کے مطابق کرتے تھے، وہ امن پسند سیاستدان تھے، مگر ظاہر ہے یہ انہیں انڈیا مخالف نہیں بناتا۔ یقینی طور پر ڈیسائی کسی بھی دوسرے انڈین کی طرح یا اس سے بھی زیادہ محب وطن ہوں گے۔
اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کا اپنا سیاسی فلسفہ اور فکر رہی۔ وہ پراکسی وارز کی مخالف تھیں، جہادی تنظیمیں لانچ کرنا پسند نہیں تھا۔ ان کے نزدیک یہ غلط تھا اور اس کا اینڈ برا اور نقصان دہ ہی نکلنا تھا۔ ویسے بعد میں ایسا ہوا بھی۔ محترمہ بے نظیر سوچتی تھیں کہ پڑوسی سے تعلقات بہتر ہوں، تجارت چلے، دونوں طرف کے کشمیریوں کے لیے آسانی ہو، بارڈرز سافٹ ہو تو یہ بہرحال ایک حکمت عملی اور سوچ تھی۔

’رائٹسٹ طلبہ پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے اور بھٹو صاحب کی کردار کشی کرتے‘ (فوٹو: گیٹی امیجز)

ایسا نہیں کہ بے نظیر بھٹو اپنے مخالف میاں نواز شریف سے کم محب وطن تھیں۔ جن لوگوں نے بی بی کو مشکوک بنانے کی کوشش کی، انہوں نے غلط کیا۔ انہوں نے جھوٹ بولا، تہمتیں لگائیں، کردار کشی کی۔ ایسا محض سیاسی ایجنڈے کی خاطر کیا گیا۔ حتیٰ کہ آصف زرداری پر ان کی گورننس اور دیگر حوالوں سے بہت زیادہ تنقید کی جا سکتی ہے، مگر زرداری نے اپنے پہلے صدارتی دور میں چین کے متعدد وزٹ کیے۔ وہ وہاں چینی کھانوں کی خاطر نہیں جاتے رہے۔ بہت کچھ ایسا ہوا جو بعد میں ملک کے کام ہی آیا۔
بالکل اسی طرح اگر میاں نواز شریف یہ سمجھتے تھے کہ انڈیا کے ساتھ تجارت ہو، تعلقات بہتر ہوں، کشیدگی میں کمی آئے تو یہ ایک سوچ اور رائے تھی۔ نواز شریف نے اگر بیک چینل ڈپلومیسی یا کسی انڈین بزنس مین کے ذریعے مودی جی کے ساتھ انگیجمنٹ کی، اپنی نواسی کی شادی پر انڈین وزیراعظم کو بلایا تو یہ ایک سیاسی ڈپلومیسی تھی۔ یہ ہرگز ملک و قوم سے غداری نہیں تھی۔
جن لوگوں نے انڈین بزنس مین جندال کے ساتھ نواز شریف کنکشن کا سہارا لے کر نواز شریف کو سکیورٹی رسک، غدار، غیرمحب وطن بنانے کی کوشش کی، وہ غلط تھے۔ اتنے ہی غلط جتنے بے نظیر بھٹو پر الزام لگانے والے تھے۔ مزے کی بات ہے کہ ایسے کئی لوگ جو صرف تین چار برس پہلے میاں نواز شریف پر انڈین بزنس مین سے کنکشن کے الزامات اور ان کی ملوں میں انڈین جاسوس ملازم بھرتی ہونے کی باتیں کرتے تھے۔ اب وہ سب بڑے جوش وخروش سے حالیہ دور میں صدر ٹرمپ کے بزنس مین بیٹے، داماد جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف سے مختلف غیررسمی تجارتی اور دیگر کنکشن قائم کرنے کا دفاع کرتے ہیں کہ ان سے وائٹ ہاؤس اور صدر ٹرمپ تک رسائی ممکن ہوئی۔ میرے نزدیک کل بھی ٹھیک ہوا تھا، اس وقت کے وزیراعظم نے تعلقات بہتر کرنے کی خاطر ایک پولیٹکل موو کی تھی۔ آج بھی یہ ٹھیک ہو رہا ہے۔ ٹرمپ جیسے ٹیڑھے اور ٹو مچ بزنس مائنڈڈ شخص سے تعلق کی خاطر کسی بھی قسم کے کنکشن کا سہارا لینا قابل فہم اور جسٹی فائیڈ ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان اہلیہ سمیت جیل میں قید ہیں (فوٹو: روئٹرز)

میں تو آج اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ نہ بھٹو انڈین ایجنٹ تھا اور نہ جنرل ضیا امریکی ایجنٹ۔ اس پر کبھی تفصیل سے بات کروں گا لیکن ضیا امریکی ایجنٹ ہوتا تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام آتے ہی لپیٹ دیتا۔ ضیا دور میں ہرگز پاکستان ایٹم بم نہ بنا پاتا اور اگر تب ایٹم بم نہ بنتا تو پھر کبھی ممکن ہی نہ ہوپاتا۔ بے نظیر بھٹو، نواز شریف دونوں پر لگائے الزامات بھی غلط تھے۔ بالکل اسی طرح عمران خان پر تنقید کے بہت سے پہلو نکلتے ہیں مگر خان کی حب الوطنی پر شک کرنا درست نہیں۔
میرے نزدیک عمران خان وہ آخری شخص ہو سکتا ہے جو ملک کے خلاف جائے۔ عمران خان کے سیاسی بلنڈرز بہت سے ہیں، لیکن اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی میں کنکشن ہے تو مجھے اس بات پر ہنسی آ جاتی ہے۔ ایسی ہنسی جس کے تہہ میں آنسو موجود ہیں۔
افسوس ہوتا ہے کہ ہم ابھی تک اسی 30 برس پرانے دور میں زندہ ہیں۔ ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ ہم دائرے کا سفر ہی کر رہے ہیں، گھوم پھر کر وہیں زیرو پوائنٹ پر آ جاتے ہیں۔
صاحبو! اب ہمیں آگے بڑھنا چاہیے،انگریزی اصطلاح کے مطابق گرو کر جانا چاہیے۔ یہ غدار غدار کھیلنا بند کریں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کی خاطر مخالف کی حب الوطنی پر سوال نہ اٹھائیں۔ مخالف پر سیاسی تنقید کریں، اس کی نااہلی، غلطیوں کو ڈسکس کریں۔ مہذب جمہوری دنیا میں یہی طریقہ ہے۔ ہم بھی مہذب، باشعور، جمہوری ہونے کے دعوے دار ہیں تو پھر ان اصولوں کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟

 

شیئر: