مشرقِ وسطیٰ بحران، بجلی کا استعمال کم کرنے کے لیے بنگلہ دیش میں نئی کفایت شعاری پالیسی نافذ
مشرقِ وسطیٰ بحران، بجلی کا استعمال کم کرنے کے لیے بنگلہ دیش میں نئی کفایت شعاری پالیسی نافذ
اتوار 5 اپریل 2026 20:47
حکومت نے سرکاری اور نجی دفاتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک محدود کر دیے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
بنگلہ دیش میں اتوار کے روز مختصر ورکنگ ویک (کام کے اوقات میں کمی) کا آغاز کر دیا گیا، جو توانائی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کی نئی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث ملک کو بجلی کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق 17 کروڑ آبادی والے اس ملک کو اپنی توانائی کی 95 فیصد ضروریات پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش طویل عرصے سے عالمی توانائی منڈی میں آنے والی رکاوٹوں کے تناظر میں مشکلات کی زد میں رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے تک خام تیل کی درآمد بند رہنے کے بعد حکومت نے سرکاری اور نجی دفاتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک محدود کر دیے ہیں، جبکہ بینکنگ خدمات کے اوقات صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں تاکہ بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
حکومت نے بازاروں میں بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں اور سرکاری و نجی دونوں جگہوں پر روشنی کے استعمال کو محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔
توانائی کے مشترکہ سیکریٹری منیر حسین چوہدری نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے ایندھن کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایندھن بچانے کے لیے ہمیں صرف بنیادی اور فوری نوعیت کی سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ غیر ضروری سرگرمیاں فی الحال روک دینی چاہییں۔ اس سے ایندھن اور توانائی کے استعمال میں کمی آئے گی۔ ہر شہری کو اس اقدام کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر ایک بلب کافی ہے تو پانچ کیوں جلائے جائیں؟‘
منیر حسین چوہدری نے کہا کہ ان نئے قواعد کی خلاف ورزی پر اگرچہ کوئی واضح سزائیں مقرر نہیں کی گئیں، تاہم وزارتِ داخلہ ان پر عمل درآمد کے لیے ’ضروری اقدامات‘ کرے گی۔
بنگلہ دیش کو اپنی توانائی کی 95 فیصد ضروریات پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے (فوٹو: روئٹرز)
انہوں نے مزید کہا کہ ’آنے والے دنوں میں مزید ہدایات بھی جاری کی جا سکتی ہیں۔‘
وزارتِ محنت و روزگار کی جانب سے نجی شعبے کے صنعتی یونٹوں اور فیکٹریوں کے لیے مزید کفایت شعاری اقدامات کا اعلان جلد متوقع ہے، جبکہ وزارتِ تعلیم سکولوں کے حوالے سے نئے قواعد جاری کرے گی۔
اتوار سے بازاروں اور کاروباری مراکز کو شام 7 بجے تک بند کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم 14 اپریل کو بنگالی نئے سال سے قبل کچھ رعایت دی جائے گی، جو بنگلہ دیش میں خریداری کا ایک اہم سیزن ہوتا ہے۔
شاپ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد ہلال الدین نے کہا ہے کہ ’جنگی صورتِ حال اگر طویل ہوئی تو حکومت نے عیدالاضحیٰ پر بھی ہمارے لیے اسی طرح کی رعایت دینے کا وعدہ کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر حکومت کے فیصلے پر عمل نہ کیا گیا تو دکان داروں کو جرمانے ادا کرنا پڑیں گے، جن کی نگرانی پولیس کے علاوہ محکمۂ بجلی کے اہل کار کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ عالمی توانائی بحران کے پیش نظر تمام دکان دار رضاکارانہ طور پر اس کفایت شعاری مہم کی حمایت کریں گے۔‘
’حالیہ بحران کے اثرات زراعت، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم سب کو مل کر ان اقدامات پر اسی طرح عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا جس طرح ہم نے کووڈ-19 کے دوران کیا تھا۔‘