مشرقِ وسطیٰ کی جنگ: عالمی توانائی کا نظام مفلوج، دنیا مہنگائی اور قلت کی لپیٹ میں
تیل اور گیس کی یہ قلت نہ صرف گاڑیوں اور طیاروں کے ایندھن بلکہ گھروں کی بجلی، پلاسٹک اور کھاد کی تیاری کو بھی متاثر کر رہی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کے نظام کے لیے ایک ایسی ’ڈراؤنی صورتحال‘ پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں سپلائی میں اس قدر کمی واقع ہوئی ہے کہ دنیا بھر کے صارفین کو اب نہ صرف ایندھن کی بھاری قیمتیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں بلکہ اپنی کھپت میں بھی شدید کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے ایرانی ساحل کے ساتھ واقع تزویراتی طور پر اہم ’آبنائے ہرمز‘ کی عملی بندش نے دنیا کے 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل روک دی ہے۔
دوسری جانب میں اسرائیل اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں نے گیس فیلڈز، آئل ریفائنریز اور ٹرمینلز کو وہ نقصان پہنچایا ہے جس کے بارے میں صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اسے ٹھیک کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) پہلے ہی اسے تاریخ کا بدترین عالمی توانائی بحران قرار دے چکی ہے جو سنہ 1973 کے عرب تیل بائیکاٹ سے بھی زیادہ سنگین ہے جس نے ماضی میں ایندھن کی قلت اور وسیع معاشی نقصان پہنچایا تھا۔
پیکرنگ انرجی پارٹنرز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر ڈین پیکرنگ کا کہنا ہے کہ ’آپ صرف بچت کر کے اس بحران سے نہیں نکل سکتے بلکہ اب قیمتیں اس قدر بلند ہو جائیں گی کہ لوگ خود بخود استعمال بند کر دیں گے۔‘
اب تک اس بحران نے مارکیٹ سے قریباً 40 کروڑ بیرل تیل نکال دیا ہے جو کہ دنیا کی چار دن کی سپلائی کے برابر ہے اور اس کے نتیجے میں قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
تیل اور گیس کی یہ قلت نہ صرف گاڑیوں اور طیاروں کے ایندھن بلکہ گھروں کی بجلی، پلاسٹک اور کھاد کی تیاری کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اس زلزلے نے مہنگائی کو ہوا دی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سیاسی مشکل بن گئی ہے کیونکہ وہ امریکی عوام کے سامنے اس جنگ کے جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر اس جنگ میں تعاون نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’بزدل‘ قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ایشیائی معیشتوں کے لیے اہم مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتیں 164 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی ہیں۔
اس صورتحال نے دنیا بھر کی حکومتوں کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
تھائی لینڈ نے سرکاری ملازمین کو بیرون ملک سفر معطل کرنے اور لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے اپنی یونیورسٹیاں بند کر دی ہیں۔ سری لنکا میں ایندھن کی راشننگ شروع ہو چکی ہے اور برطانیہ میں گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے گھر سے کام کرنے اور فضائی سفر سے گریز کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کے اہم فضائی مراکز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ بحران صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ عالمی غذائی تحفظ کے لیے بھی بڑا خطرہ بن گیا ہے۔
دنیا کی ایک تہائی کھاد کی تجارت آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے جو اب رک چکی ہے، جس کی وجہ سے یوریا جیسی اہم کھادوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ماہرِ معاشیات میکسیمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید چند ہفتے جاری رہا تو عالمی سطح پر اناج، مویشیوں کی خوراک اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہو گی۔
