Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مسافر ذہنی دباؤ کا شکار‘: پاکستان سے متعدد پروازیں آج بھی منسوخ

حالیہ دنوں میں اسلام آباد ایئرپورٹ سے بھی پروازیں معطل ہوئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے اثرات پاکستان کے فضائی نظام پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں جس کے باعث چھ اپریل 2026 بروز پیر ملک کے مختلف شہروں سے متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
فضائی آپریشن تاحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکا جس سے نہ صرف مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ٹریول انڈسٹری بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ شہر کراچی رہا جہاں سے مجموعی طور پر 14 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اسی طرح پشاور سے 5، اسلام آباد سے 2، لاہور سے ایک، سیالکوٹ سے ایک اور فیصل آباد سے بھی ایک پرواز منسوخ ہوئیں۔ ان پروازوں کے منسوخ ہونے سے ملک بھر میں فضائی سفر کے نظام کو متاثر کیا ہے اور مسافروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
فضائی کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث فضائی حدود کے استعمال میں رکاوٹیں، سکیورٹی خدشات اور آپریشنل مسائل درپیش ہیں جس کی وجہ سے پروازوں کو منسوخ یا تاخیر کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر وہ پروازیں جو خلیجی ممالک یا یورپ کی جانب جاتی ہیں، زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔
کراچی سے سپین کے لیے سفر کرنے والے فائق ندیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ وہ بار بار اپنی آن لائن بکنگ چیک کر رہے ہیں تاکہ جیسے ہی فلائٹ کنفرم ہو، وہ ایئرپورٹ کا رخ کریں۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث لوگ ایئرپورٹ جانے سے بھی گریز کر رہے ہیں کیونکہ اکثر صورتوں میں پہنچنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ پرواز منسوخ ہو چکی ہے۔
ایک اور مسافر نے بتایا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کب جانا ہے اور کب نہیں۔ ہر گھنٹے بعد بکنگ سٹیٹس چیک کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بیرون ملک جانے والے افراد، خاص طور پر وہ لوگ جو ملازمت یا تعلیم کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے، شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔‘
ادھر ایوی ایشن ذرائع کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے نے بھی فضائی سفر کو مہنگا کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ایئرلائنز کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے، جس کا براہ راست اثر عام مسافروں پر پڑ رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی پروازیں متاثر ہوئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ ٹکٹوں کی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں نمایاں حد تک بڑھ چکی ہیں جس سے سفر کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر ان پاکستانیوں کے لیے زیادہ پریشان کن ہے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ مختلف اداروں کے سروے کے مطابق تقریباً 60 لاکھ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں رہائش پذیر ہیں جو سالانہ بنیادوں پر اپنی چھٹیوں، خاندانی تقریبات اور دیگر مصروفیات کے مطابق سفر کا منصوبہ بناتے ہیں۔ موجودہ حالات نے ان کے تمام منصوبے متاثر کر دیے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں شادیوں کا سیزن بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی بڑی تعداد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی افراد اپنی طے شدہ تقاریب میں شرکت نہیں کر پا رہے، جبکہ بعض تقریبات کو ملتوی کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

مسافروں کے مطابق انہیں ہر گھنٹے بعد بکنگ سٹیٹس چیک کرنا پڑتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

خاندانوں کے لیے یہ صورتحال نہایت مایوس کن ہے کیونکہ مہینوں پہلے بنائے گئے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
مزید برآں سمر سیزن کا آغاز بھی قریب ہے جو کہ سیاحت اور سفر کے حوالے سے ایک اہم وقت ہوتا ہے۔ ٹریول آپریٹرز اور ٹوئر ایجنٹس اس صورتحال سے شدید پریشان ہیں کیونکہ بکنگز میں کمی اور غیر یقینی صورتحال نے ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔
ٹریول آپریٹر نوید وحید نے اردو نیوز کو بتایا کہ لوگ سفر کے فیصلے کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ہر کوئی انتظار کر رہا ہے کہ حالات بہتر ہوں تو ہی بکنگ کروائی جائے۔

کشیدگی کے بعد مسافروں کو ایئرپورٹ پر طویل انتظار کرنا پڑتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ فضائی آپریشنز میں مزید خلل، ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ اور مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکومت اور ایوی ایشن حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد فضائی آپریشن کو معمول پر لایا جائے۔
فی الحال مسافروں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے شیڈول سے متعلق بروقت معلومات حاصل کرتے رہیں، ایئرلائنز سے رابطے میں رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ موجودہ حالات میں احتیاط اور پیشگی معلومات ہی مسافروں کو مشکلات سے بچا سکتی ہیں۔

شیئر: