انڈیا نے اتوار کے روز امریکی ویزا پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا، جو ایک غیر معمولی تنقیدی مؤقف ہے، حالانکہ اس نے دیگر متنازع امور پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ وسیع ہم آہنگی بھی ظاہر کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنے پہلے دورۂ انڈیا کے دوران مارکو روبیو نے کہا کہ دونوں جمہوریتیں تمام بڑے مسائل پر ایک ہی صفحے پر ہیں، اور انہوں نے تجارت، چین اور ایران جنگ کے حوالے سے نئی دہلی میں پائی جانے والی حالیہ بے چینی کو نظرانداز کیا۔
انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے ’کئی شعبوں میں قومی مفادات میں ہم آہنگی‘ موجود ہے، لیکن انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ویزا پالیسیوں پر مارکو روبیو کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں
جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے ’سیکریٹری روبیو کو ویزا جاری کرنے کے حوالے سے جائز مسافروں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ ہم غیر قانونی اور بے ضابطہ نقل و حرکت سے نمٹنے میں تعاون کرتے ہیں، لیکن ہماری توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں قانونی نقل و حرکت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ویزے امریکہ اور انڈیا کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کے لیے اہم ہیں۔
صدر ٹرمپ، جنہوں نے غیر مغربی امیگریشن کو محدود کرنا اپنی سیاسی ترجیحات میں شامل کیا ہے، نےایچ بی ون ویزوں پر پابندیاں اور فیسیں بڑھا دی ہیں، جو زیادہ تر انڈین ٹیکنالوجی کارکن استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث درخواستوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جمعے کے روز مزید اعلان کیا کہ مستقل رہائش کے درخواست دہندگان، چاہے وہ قانونی طور پر امریکہ میں موجود ہوں، پراسیسنگ کے لیے ملک چھوڑنے کے پابند ہوں گے، جس سے بہت سے خاندان طویل عرصے تک الگ ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ پر قوم پرست ناقدین کا اثر رہا ہے، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انڈین کارکن امریکیوں سے ہنر مند ملازمتیں چھین لیتے ہیں، جن پر امریکی زیادہ آمدنی حاصل کر سکتے تھے۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ نے ایک انتہائی دائیں بازو کے مبصر کی پوسٹ دوبارہ شیئر کی، جس میں انڈیا کو ’جہنم نما جگہ‘ قرار دیا گیا تھا اور غلط طور پر کہا گیا تھا کہ انڈین تارکین وطن انگریزی مہارت نہیں رکھتے۔
جب امریکہ میں انڈینز کے خلاف نسل پرستانہ بیانات کے بارے میں سوال کیا گیا تو مارکو روبیو نے کہا، ’دنیا کے ہر ملک میں بیوقوف لوگ ہوتے ہیں۔‘
کیوبا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے بیٹے مارکو روبیو نے کہا، ’ہمارا ملک ان لوگوں سے مضبوط ہوا ہے جو ہمارے ملک آئے۔‘
انہوں نے کہا کہ امیگریشن اصلاحات صرف انڈیا کے خلاف نہیں بلکہ امریکہ میں ’امیگریشن بحران‘ کے ردعمل کے طور پر کی جا رہی ہیں۔
تمام مسائل پر ہم آہنگی
مارکو روبیو، جو انڈیا کے غیر معمولی چار روزہ اور چار شہروں پر مشتمل دورے پر ہیں، نے انڈیا کو ’دنیا میں ہمارے سب سے اہم سٹریٹجک شراکت داروں میں سے ایک‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’یہ ہمارے مشترکہ اقدار سے شروع ہوتا ہے۔ ہم دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتیں ہیں۔‘













