ترکی کی اینٹی رائٹ پولیس دروازے توڑ کر اپوزیشن پارٹی کے ہیڈکوارٹرز میں داخل، معزول قیادت بے دخل
ترکی کی انسدادِ رائٹ پولیس نے اتوار کے روز آنسو گیس کا استعمال کیا اور مرکزی اپوزیشن جماعت کے ہیڈکوارٹر کے دروازے توڑ کر اس کی معزول قیادت کو بے دخل کر دیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترکی کی عدالت ہرائے اپیل نے جمعرات کو ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے رہنما اوزگور اوزیل کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ عدالت نے 2023 میں ہونے والی سی ایچ پی کانگریس کے نتائج کو بے ضابطگیوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا تھا، جس میں وہ منتخب ہوئے تھے۔
عدالت نے ان کی جگہ سابق چیئرمین کمال کلیچدار اوغلو کو بحال کر دیا، جو اسی سال ہونے والے قومی انتخابات میں صدر طیب اردوان سے ہار گئے تھے۔
اوزیل نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا تھا کہ جلد از جلد نئی پارٹی کانگریس منعقد کی جائے، جبکہ کلیچدار اوغلو نے کہا کہ کانگریس ’مناسب‘ وقت پر منعقد ہوگی۔ اوزگور اوزیل کی قیادت میں معزول سی ایچ پی قیادت نے عدالتی فیصلے کو ’عدالتی بغاوت‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، اور اوزیل نے قانونی اپیلوں کے ذریعے اس کے خلاف لڑنے اور پارٹی کے انقرہ ہیڈکوارٹرز میں ’دن رات‘ موجود رہنے کا عزم ظاہر کیا۔
سی ایچ پی کے اراکینِ پارلیمان نے ہفتے کے روز اوزیل کو پارٹی کے پارلیمانی گروپ کا رہنما منتخب کر لیا۔