اسرائیل میں سزائے موت کا نیا قانون: غزہ سے گرفتار ڈاکٹر حسام کی زندگی خطرے میں، اہل خانہ کو شدید تشویش
اسرائیل میں سزائے موت کا نیا قانون: غزہ سے گرفتار ڈاکٹر حسام کی زندگی خطرے میں، اہل خانہ کو شدید تشویش
پیر 6 اپریل 2026 18:00
24 مارچ کو اقوام متحدہ کے ماہرین نے حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایک برس سے زائد عرصے سے غزہ سے گرفتار ہونے والے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے اہلِ خانہ انہیں دوبارہ دیکھنے کے لیے پرامید ہیں اور ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم گزشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات میں ملوث فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کی منظوری کے بعد خاندان کا کہنا ہے کہ یہ امید مدھم پڑتی جا رہی ہے۔
ان کے بڑے بیٹے الیاس ابو صفیہ نے قازقستان سے واٹس ایپ پر عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہر فون کال اور غزہ سے آنے والی ہر خبر ہمیں خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ ہر اطلاع شاید کسی انجام کی خبر لے کر آئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم ہر لمحہ ایسے گزار رہے ہیں جیسے یہ آخری ہو۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہ فیصلے ہمارے لیے آخری الوداع بن جائیں۔‘
حسام ابو صفیہ، جو شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹر اور ڈائریکٹر تھے، جنگ کے دوران ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے اسرائیلی حملوں کے باعث طبی مراکز، مریضوں، طبی عملے اور پناہ لینے والے بے گھر شہریوں کو لاحق خطرات کو اجاگر کیا اور عالمی برادری سے نظامِ صحت کے تحفظ کی اپیل کی۔
52 سالہ چھ بچوں کے والد 27 دسمبر 2024 کو اس وقت لاپتہ ہو گئے جب اسرائیلی افواج نے انہیں گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انخلا کے احکامات کے باوجود کمال عدوان ہسپتال چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، جو اس وقت محصور شمالی غزہ کا آخری فعال ہسپتال تھا، اور زخمی بچوں اور مریضوں کے علاج کو ترجیح دی۔
ڈاکٹروں والے سفید کوٹ میں ملبے سے بھرے راستے پر ایک اسرائیلی ٹینک کی جانب بڑھتے ہوئے ابو صفیہ کی تصویر دنیا بھر میں سرخیوں میں آئی اور اسے ان کی گرفتاری سے قبل کے آخری لمحات تصور کیا گیا۔
گرفتاری کے بعد سے ابو صفیہ کو اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ان کے بچے ان کی حالت کے بارے میں وکلا اور سابق قیدیوں سے ملنے والی محدود معلومات پر انحصار کر رہے ہیں۔
الیاس کے مطابق ان کے والد اس وقت بدنام زمانہ نفحہ صحرائی جیل میں بغیر کسی مقدمے یا باضابطہ فردِ جرم کے قید ہیں، اور حکام کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے سکیورٹی حالات کے باعث انہیں 50 دن سے زائد عرصے سے وکیل سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
ڈاکٹر حسام 27 دسمبر 2024 کو اس وقت لاپتہ ہو گئے جب اسرائیلی افواج نے انہیں گرفتار کر لیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
الیاس نے کہا کہ ’ہمیں گذشتہ 50 دنوں سے ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ہم روز خود سے سوال کرتے ہیں: وہ کیسے ہیں؟ کیا انہیں تکلیف ہے؟ کیا وہ کھانا کھا رہے ہیں؟ کیا انہیں کوئی تسلی دینے والا ہے؟ کیا وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم، ان کا خاندان، اس فاصلے کے باوجود ان کے ساتھ ہیں؟‘
24 مارچ کو اقوام متحدہ کے ماہرین نے حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور اطلاعات کے بعد کہ انہیں ’شدید تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے، ان کے طبی معائنے اور علاج تک رسائی دینے پر زور دیا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ ’ان کی حالت تشویشناک ہے‘ اور انہیں ’ظالمانہ اور توہین آمیز سلوک‘ کا سامنا ہے۔