امریکی کمانڈوز نے گرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو ایران سے کیسے ریسکیو کیا؟
امریکی کمانڈوز نے گرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو ایران سے کیسے ریسکیو کیا؟
اتوار 5 اپریل 2026 17:59
امریکی پائلٹ ایران سے کامیابی سے بازیاب، صدر ٹرمپ کی جانب سے آپریشن کی تصدیق (فوٹو: روئٹرز)
امریکی میڈیا نے اتوار کے روز یہ خبر دی ہے کہ امریکی کمانڈوز نے ایک پائلٹ کو بچانے کے لے ایران کے اندر تک گہرائی میں جا کر خصوصی مہم انجام دی ہے، جس کے چند گھنٹوں بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ عملے کا یہ رُکن بازیاب کر لیا گیا ہے اور وہ ’محفوظ و سلامت‘ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق تہران نے اس ہفتے یہ کہا کہ اس نے امریکہ کا ایک F-15 جنگی طیارہ مار گرایا، جو جنگ کے آغاز کے بعد ایران میں گرنے والا پہلا امریکی لڑاکا طیارہ ہے۔ واشنگٹن نے اس بارے میں اب تک منظرعام پر آنے والی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ طیارہ کیسے گرایا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کی صبح یہ کہا کہ امریکی فوج نے ہمارے عملے کے ایک شاندار افسر کے لیے جو ایک انتہائی قابلِ احترام کرنل بھی ہیں، کی تلاش کے لیے’امریکی تاریخ کے سب سے جرأت مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا، اور مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کو یہ اطلاع دوں کہ وہ اب محفوظ و سلامت ہیں۔‘
نیویارک ٹائمز نے نامعلوم ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ نیوی سیل ٹیم 6 کے کمانڈوز کو فضائی اہلکار کو ریسکیو کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، جبکہ امریکی حملہ آور طیاروں نے ایرانی قافلوں کو روکنے کے لیے بم گرائے اور فائرنگ کی۔
ایک اور خبر رساں ادارے آکسیوس نے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ لکھا کہ فضائی اہل کار، جو ایک ویپن سسٹم افسر تھے، نے زخمی ہونے کے باوجود گرفتار ہونے سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں ایک دن سے زیادہ وقت گزارا۔
نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ نامعلوم فضائی افسر کے پاس ایک پستول، ایک ٹارچ اور ایک محفوظ مواصلاتی آلہ موجود تھا تاکہ وہ ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ رابطہ قائم کر سکے۔
امریکی کمانڈوز جب اس مقام تک پہنچے جہاں افسر موجود تھا تو انہوں نے ایرانی فورسز کو ریسکیو مقام سے دور رکھنے کے لیے ان پر فائرنگ کی۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی کہ ’دنیا کے سب سے مہلک ہتھیاروں سے لیس درجنوں طیارے بھیج کر اسے (پائلٹ کو) بازیاب کروایا جائے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’وہ زخمی ہوئے، لیکن وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔‘ تاہم، ان کے دوسرے پیغام میں کہا گیا کہ فضائی اہلکار ’شدید زخمی‘ تھے، مگر اس حوالے سے مزید تفصل فراہم نہیں کی گئی۔
پیچیدہ آپریشن
نیویارک ٹائمز اور سی بی ایس دونوں نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ فضائی افسر اور ریسکیو اہلکاروں کو بچانے کے لیے گئے دو طیارے ایران کے ایک دور دراز بیس پر پھنس گئے تھے جنہیں تباہ کرنا پڑا تاکہ وہ ایرانیوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔
بعدازاں امریکی افواج نے تین دیگر ٹرانسپورٹ طیارے استعمال کیے تاکہ فضائی اہلکار اور اس کے ریسکیو اہلکاروں کو ایران سے باہر لے جایا جا سکے۔
ایرانی فوج نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکی فضائی اہلکار کو بچانے کے آپریشن کے دوران انہوں نے جنوبی اصفہان صوبے کے ایک ترک شدہ ہوائی اڈے کا استعمال کیا۔
ایران نے ایک امریکی F-15 لڑاکا طیارے کو مار گرایا تھا (فوٹو:روئٹرز)
ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ دو امریکیC-130 فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق سی آئی اے نے ایران میں یہ خبر پھیلانے کے لیے ایک جھوٹی مہم بھی چلائی کہ امریکی افواج فضائی اہلکار کو زمینی راستے سے ملک سے باہر لے جا رہی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے ابتدائی پیغام میں ’ایک اور بہادر پائلٹ کے کامیاب ریسکیو‘ کی تصدیق کی، اور کہا کہ یہ خبر اس لیے ظاہر نہیں کی گئی تاکہ دوسرے ریسکیو مشن کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
انہوں نے لکھا کہ ’یہ پہلی بار ہے کہ فوجی تاریخ میں دو امریکی پائلٹ دشمن کے علاقے سے الگ الگ بازیاب کیے گئے اور دونوں آپریشنز بغیر کسی امریکی کی ہلاکت یا زخمی ہونے کے مکمل ہوئے۔‘
اے ایف پی نے مزید تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا۔ پینٹاگون نے اے ایف پی کو ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں ریسکیو کا اعلان کیا گیا۔